تحقیقِ عارفانہ — Page 65
سعد کہتے ہیں یہ راوی بہت غلط روایات کیا کرتا تھا۔“ اس حدیث کا دوسر اراوی ابو رافع اسماعیل بن رافع بھی ضعیف ہے کیونکہ لکھا ہے۔ضَعَفَهُ أَحْمَدُ وَيَحُ ـمَدُ وَيَحْى وَ جَمَاعَةٌ قَالَ الدَارِ قُطْنِيُّ مَتَرُوكُ الْحَدِيثِ قَالَ ابنُ عَدِي أَحَادِيثُهُ كُلُّهَا فِيهِ نَظَر “ ( میزان الاعتدال جلد اصفحه ۱۰۵) " یعنی امام احمد اور نیکی اور ایک جماعت محمد ثین نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے۔دار قطنی اسے متروک الحدیث قرار دیتے ہیں اور ابن عدی کے نزدیک اس کی تمام روایات مشکوک ہیں۔“ اسی طرح نسائی نے بھی اسے متروک الحدیث قرار دیا ہے یہ ان معین ترمذی اور ابن سعد کے نزدیک بھی ضعیف ہے۔(تہذیب التہذیب جلد ا صفحہ ۲۹۴) پس یہ روایت سندا بالکل جعلی ہے۔پھر یہ حدیث ہمارے مدعا کے بھی خلاف نہیں کیونکہ اس میں صرف ان انبیاء میں سے آنحضرت ﷺ کا آخری ہو نا بیان ہوا ہے جو آ کر نئی امت بناتے ہیں۔پھر آخری کا لفظ افضل کے معنوں میں بھی زبان عربی میں استعمال ہوتا ہے۔اس لحاظ سے حدیث کے یہ معنی ہوں گے کہ آنحضرت ﷺ تمام نبیوں سے افضل ہیں اور آپ کی امت تمام امتوں سے افضل ہے۔چنانچہ ایک عربی شاعر آخر کا لفظ افضل کے معنوں میں استعمال کرتا ہے۔اور کہتا ہے۔شَرَى ودَّى وَشَكْرِئُ مِنْ بَعِيدٍ لاخِرِ غَالَبٍ أَبَداً رَبِيعَ (حماسه باب الادب) اس شعر کا ترجمہ مولوی ذوالفقار علی صاحب دیوبندی شارع حماسہ یوں کرتے ہیں کہ۔ربیع بن زیاد نے میری دوستی اور شکر دور بیٹھے ایسے شخص کے لئے جو بنی