تحقیقِ عارفانہ — Page 64
۶۴ کرے گا۔اور میرے بعد کوئی نبی نہیں سوائے اس نبی کے جسے اللہ تعالی چاہے اس حدیث کی تشریح میں نبر اس کے حاشیہ صفحہ ۴۴۵ پر لکھا ہے۔66 "وَالْمَعْنَى لَا نَبِيَّ بِنُبُوَّةِ التشريع بَعْدِى إِلا مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَنْبِيَاءِ الْأَوْلِيَاءِ" یعنی حدیث کے فقرہ لانَبی بَعْدِی کے معنی یہ ہیں کہ میرے بعد نئی شریعت والی نبوت کے ساتھ کوئی نبی نہیں ہو گا۔اور الا ماشاء اللہ (کے استثناء) سے مراد وہ انبیاء ہیں جو انبیاء اولیاء ہیں۔یعنی وہ انبیاء مراد ہیں جو امت محمدیہ میں پہلے اولیاء کا مقام حاصل کرنے کے بعد مقام نبوت پانے والے ہیں۔“ پس ایک قسم کی نبوت کا امکان علمائے امت نے آنحضرت ﷺ کے بعد امت محمدیہ میں تعلیم فرمایا ہے اور لانبی بعدی کی حدیث کی موجودگی میں ایسے امکان کو تسلیم کیا ہے۔حدیث پنجم أنِّي آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ یہ حدیث بھی ضعیف ہے کیونکہ ابن ماجہ نے جن راویوں سے اسے نقل کیا ہے اس میں عبد الرحمن بن محمد المحار نبی اور اسماعیل بن رافع (ابو رافع ) ضعیف ہیں۔عبد الرحمن بن محمد کے متعلق لکھا ہے۔قَالَ ابنُ مُعِينِ يَرَوى المناكير عَنِ الْمَجْهُو لِينَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ أَحْمَدَ بن حنبل عَنْ أَبِيهِ إِنَّ الْمُحَارِ فِى كَانَ يُدكِسُ۔۔۔قَالَ ابنُ سَعْدٍ كَانَ كَثِيرُ بی 66 غَلَط “ (میزان الاعتدال جلد ۲ صفحه ۱۵ او تهذیب التهذیب جلد ۶ صفحه ۲۶۱) یعنی این معین کہتے ہیں کہ یہ راوی مجمول ( نامعلوم ) راویوں سے نا قابل قبول روایات بیان کرتا تھا۔امام احمد بن حنبل کہتے ہیں محارفی تدلیس کیا کرتا تھا۔ائن