تحقیقِ عارفانہ — Page 61
۶۱ التہذیب جلد ۹ صفحه ۳۹۴) ابو داؤد کے دوسرے طریقہ میں عبد العزیز بن محمد اور العلاء بن عبدالرحمن ضعیف ہیں۔عبد العزیز بن محمد کو امام احمد بن حنبل نے خطا کار اور ابو زرعہ نے سی الحفظ ( خراب حافظ والا) اور نسائی نے کہا ہے لیسَ بِالقَوِيِّ ( یہ قوی راوی نہیں ) ابن سعد کے نزدیک كَثِيرا لغلط ( بہت غلطیاں کرنے والا ) اور ساجی کے نزدیک وہمی تھا۔اس کا دوسرا راوی العلاء بن عبد الرحمن بھی ضعیف ہے کیونکہ ابن معین ذیل کے چاروں راویوں کے ذکر میں کہتے ہیں۔ا سهل بن ابی صالح - ۲- العلاء بن عبد الرحمن۔۳- عاصم بن عبید اللہ۔۴۔عقیل۔هؤلاءِ الْأَرْبَعَةُ لَيْسَ حَدِيثُهُمْ حُجَّةٌ- کہ ان چاروں راویوں کی حدیث حجت نہیں۔تهذیب التهذیب جلد ۶ صفحه ۱۳ ، ۱۵) پس جہاں تک راویوں کا تعلق ہے یہ حدیث حجت نہیں۔مگر اس کے باوجود یہ حدیث مسیح موعود کی نبوت کے خلاف بطور دلیل پیش نہیں ہو سکتی۔کیونکہ مسیح موعود کو دوسری احادیث نبویہ نبی قرار دیتی ہیں۔اور صحیح بخاری کی حدیث بتاتی ہے۔ليس بينى وبينه نبی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے اور مسیح موعود کے درمیان کوئی نبی نہیں۔پس ان دونو حدیثوں کو ملحوظ رکھنے سے یہ ظاہر ہے کہ مسیح موعود کے ظہور تک دعوی نبوت کرنے والوں کو ہی آنحضرت ﷺ نے دجال ، کذاب قرار دیا ہے۔اور شرح مسلم میں لکھا ہے۔فَإِنَّهُ لَوْ عُدُّ مَنْ تَنَبَّاءَ مِنْ زَمَنِهِ البَلَغَ هَذَا لَعَدَدَ - (شرح مسلم لابی مالکی السنوسی جلدے صفحہ ۲۵۸) یعنی اگر جھوٹی نبوت کے دعویداروں کو شمار کیا جائے تو تمہیں کی یہ تعداد پوری ہو چکی ہے۔“ " نواب صدیق حسن خان " حجج الکرامہ “ میں لکھتے ہیں۔