تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 62 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 62

۶۲ شد۔بالجمله آنچه آنحضرت عله اخبار بوجود د جالین کذابین در امت فرموده واقع (حجج الكرامة صفحه ٢٣٩) یعنی آنحضرت صلی اللہ نے جو امت میں کذاب ، دجالوں کے آنے کی خبر دی ہے وہ پوری ہو چکی ہے۔پس اس حدیث میں خاتم النبیین لا نبی بعدی کے الفاظ کے معنی حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی" کے قول کے مطابق :- وول 66 لا نَبِيُّ يُخَالِفُ شَرْعِي بَلْ إِذَا كَانَ يَكُونُ تَحْتَ حُكُم شَرِيعَنِي " (فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه ۷۳) ہی ہو سکتے ہیں۔یعنی کہ آنحضرت ﷺ کی مراد یہ ہے کہ آئندہ کوئی ایسا نبی نہیں ہو گا جو میری شریعت کے مخالف ہو۔بلکہ جب کبھی آئندہ کوئی نبی ہوگا تو وہ میری شریعت کے حکم کے ماتحت ہو گا۔بعد کا لفظ عربی زبان میں مخالف کے معنوں میں بھی آتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللَّهِ وَ آيَاتِهِ يُؤْمِنُونَ۔(الجاثية : ) کہ وہ اللہ تعالی اور اس کی آیتوں کی خلاف اور کس بات کو مانتے ہیں۔“ اس لحاظ سے اس حدیث میں خاتم النبیین کی شریعت کے مخالف مدعیان نبوت کو دجال و کذاب قرار دے کر خاتم النبیین لانبی بعدی کے الفاظ سے وضاحت کی گئی ہے کہ آنحضرت مال کے مخالف ہونے کی وجہ سے ان کا دعوئی خاتم النبیین لا نَبی بَعْدِی کے مخالف ہے۔چونکہ برق صاحب لانبی بعدی کے قول کو اس حدیث میں غلط معنوں میں لے رہے ہیں۔اس لئے میں انہیں ام المؤمنین حضرت عائشہ الصديقة معلمة نصف الدین کا قول یاد دلاتا ہوں۔آپ فرماتی ہیں۔