تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 671 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 671

۶۷۱ الجواب اس عبارت کے پیش کرنے میں بھی جناب برق صاحب نے یوں جرم کا ارتکاب کیا ہے کہ عبارت ادھوری پیش کر دی ہے تاکہ ان کے مضمون کو پڑھنے والا مغالطہ کھا جائے۔اور ان کے اعتراض کو صحیح سمجھ لے۔حالانکہ پورا فقرہ یوں ہے :- "وَإِنَّهُم ثَمَرَاتُ الجَنَّةِ فَوَيْلٌ لِلَّذِي تَرَكَهُمْ" ترجمہ : وہ انبیاء اور رسل جنت کے پھل ہیں۔پس ہلاکت ہے اس پر جس نے انبیاء اور رسل کو چھوڑا یعنی ان کا انکار کیا اور ان کے دامن سے وابستہ نہ ہوا۔واضح ہو کہ اس فقرہ سے پہلے مرسلین اور انبیاء کا ذکر چلا آرہا تھا اور اسی سلسلہ عبارت میں حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جنت کے پھل ہیں۔پس اس کے لئے ہلاکت ہے جس نے ان بزرگوں کو چھوڑ دیا اور دنیا کے قوت لایموت کی طرف مائل ہوا۔اس سے ظاہر ہے کہ ترکھم کی ضمیر کا مرجع ثمرات الجنة نہیں بلکہ انھم میں جو انبیاء اور رسل مراد ہیں وہ ترکھم کی ضمیر ھم کا مرجمع ہیں۔پس مرجع بھی جمع مذکر ہے اور اس کیلئے ضمیر بھی جمع نہ کر لائی گئی۔فاندفع الاعتراض۔اعتراض نمبر ۱۵ الجواب أَتَظُنُّ أَنْ يَكُونَ الغَيْر غیر پر الف لام نہیں آسکتا۔“ (حرف محرمانه صفحه ۴۱۵) یہ عبارت بھی اوپر کے جواب میں دیئے گئے فقرہ سے چند فقرات کے بعد لائی گئی ہے عبارت کا سلسلہ یوں ہے :- " وَإِنَّهُم نورُ اللهِ يُعطى بهم نُورُ القُلُوبِ وَتَرياق لِسَمَ الذُّنُوبِ وَسَكِينة