تحقیقِ عارفانہ — Page 669
۶۶۹ هُوَ كَا لَمَعُدُومِ مِنَ النُّدْرَة ترجمہ : - گویا کہ تمام لوگ مر چکے ہیں اور ان میں بجز تھوڑے سے لوگوں کے روح معرفت باقی نہیں رہی جو اپنی ندرت کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر ہے۔اس فقرہ میں رُوحُ الْمَعْرِفَةٍ جو اضافت کی وجہ سے معرفہ ہے ترکیب میں موصوف ہے اور الَّذِي هُوَ كَا لَمَعْدُوم اس کی صفت معرفہ لائی گئی ہے۔یہ صفت معرفہ قلیل نکرہ کی صفت نہیں۔القَلِیل میں قلیل نکرہ تو مستقلی ہے جو اپنے مستقلی منہ روح المَعْرِفَةِ کے ساتھ مل کر فعل لم تین کا فاعل ہے۔پس برق صاحب نے یہ اعتراض کر کے بھی صرف منہ چڑانے کی کوشش کی ہے۔كان هذا القدر مبلغ علمه من فَلْيَسْتَتِرُ بالصمت والكتمان اعتراض نمبر ۱۳ الجواب ہے :- لا تؤذى اخيك“ برق صاحب نے اس پر اعتراض کیا ہے :- اخيك غلط ہے۔مفعول ہونے کی وجہ سے اخاک چاہیئے یہ اعتراض عبارت صحیح نہ پڑھ سکنے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔پورا فقرہ یوں أنْ لَا تُو ذِى أُحَبَّكَ بِكَيْرِ مِنكَ" چونکہ عبارت پر اعراب درج نہیں تھے اس لئے یہ فقرہ جناب بر من صاحب کیلئے امتحانی بن گیا۔اور وہ اسے صحیح طور پر پڑھ نہیں سکے۔یہ لفظ اس جگہ ان کے نہیں