تحقیقِ عارفانہ — Page 663
۶۶۳ مؤنث کی ضمیر علیها ہی راجع کی ہے۔لہذا من ركب علیہ کی عبارت میں تاویلا اہل عرب کے ایک اسلوب کے مطابق ناقہ کو بقرینہ فعل رکب "مرکب " پر محمول کر کے اس کی طرف مذکر کی ضمیر راجع کی گئی ہے چنانچہ خود قرآن کریم میں بعض جگہ یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ مؤنث کی طرف مذکر کی ضمیر راجع کر دی ہے اور مذکر کی طرف مؤنث کی۔دیکھئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(1) إِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَام لَعِيرَةُ نُسَقِيكُم مِمَّا فِي بُطُونِهِ (سورة محل آیت ۶۷) میں انعام جمع مکسر ہونے کی وجہ سے مؤنث ہے مگر بطورہ میں واحد مذکر کی ضمیر اس کی طرف راجع کی گئی ہے (۲) لَا تَعْلَمُ نَفْسٍ مَّا أَخْفِيَ لَهُمُ مِنْ قُرَّةٍ أَعْيُنٍ۔(سجدہ) میں نفس مؤنث ہے اس کی طرف لهم مذکر کی ضمیر بتادیل اشخاص راجع کی گئی ہے۔(۳) پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔واعْتَدُ نَالِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيرًا۔اس میں سعیداً مذکر ہے۔مگر اس کے بعد فرماتا ہے :- إذَا رَتَتَهُمْ مِنْ مَّكَان بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغيُّظًا وزفيرا ( فرقان آیت ۱۳) اس میں فعل رات میں مؤنث کی ضمیر اور لها مؤنث کی ضمیر دونوں کا مرجع سعیر مذکر کو تار مؤنٹ پر محمول کر کے بنایا ہے۔اسی طرح مؤنث حقیقی کے لئے قرآن مجید میں فعل مذکر استعمال کیا گیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے :- قَالَ نِسْوَة فِي المَدِينَةِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَا هَا عَنْ نَفْسِهِ - اسی طرح مشہور شاعر اعشي کہتا ہے يقوم وكانواهم المنفدين شرابهم قبل تنفادها شراب مذکر ہے مگر عرب کے مشہور شاعر اعشي نے اس کی طرف تاویل۔L