تحقیقِ عارفانہ — Page 662
۶۶۲ لی سے مراد تھاوہ ما اعطیت کے الفاظ پورے طور پر ادا نہیں کر سکتے تھے۔لہذا اس جگہ مَا أعْطِی لِی کا استعمال ہی انسب ہے۔مِنْ نَوادِرِ مَا أُعْطِيتُ کے معنے ہونگے۔وہ نو اور جو میں دیا گیا۔اور مِن نَوادِرِ ما أعطى للی کے یہ معنے ہیں۔وہ نوادر جو مجھے میرے لئے بطور اختصاص و استحقاق دیئے گئے ہیں۔پس ما اعطیت سے وہ مضمون ادا نہیں ہو سکتا تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس جگہ بیان کرنا چاہتے تھے۔لام اس جگہ لام اختصاص یا لام استحقاق ہے۔جیسے قرآن مجید کی آیت لا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة اعین میں لھم کا لام اختصاص ہے۔المنجد " میں لام استحقاق کی مثال العزة للہ دی گئی ہے اور لام اختصاص کی مثال الجنة للمؤمن دی گئی ہے۔دیکھو المنجد ( زیر لفظ لام) نوادر سے مراد اس جگہ نو اور کلام ہیں جو آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بصورت نشان آپ کے مخصوص منصب کے لحاظ سے دیئے گئے۔اعتراض نمبر ۸ مَثَلُهَا كَمَثَلِ نَاقَة تُوُصِلُ إِلى دِيَارِ الْحِبِّ مَنْ رَكِبَ عَلَيْهِ - (اعجاز مسیح صفحہ ۷۷ ) ناقہ مؤنث ہے اور علیہ کی ضمیر نذکر۔علیها چاہئے۔(حرف محرمانہ صفحہ ۴۱۴) الجوب تو صل ( فعل مؤنث ) کا لفظ بتاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جانتے ہیں کہ ناقہ مونث ہے۔چنانچہ آپ نے اس فقرے کے بعد وقَدْ حُمِلَ عَليها من كل نوع الأَزْوَادِ والنفقات والشاب والكسوات کے فقرہ میں ناقہ کی طرف