تحقیقِ عارفانہ — Page 657
۶۵۷ أَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنى وَكَذَّبَ بالحُسْنَى فَسَنُيَسِرُهُ لِلْعُسُراى - (سورۃ والیل) ترجمہ : جس شخص نے حل کیا اور لا پرواہی کی اور سچائی کی تکذیب کر دی تو اسے ہم تکلیف کا سامان بہم پہنچائیں گے۔دیکھئے ! اس آیت میں حل کے ساتھ استغناء ملا کر سچائی کی تکذیب پر منتج قرار دیا ہے۔اور حق سے استغناء تکبر کی ہی علامت ہے حضرت مسیح موعود نے اسی قرآنی استعمال کے مطابق مثل کے ساتھ استکبار کو استعمال فرمایا ہے کہ علماء اپنے حفل اور تکبر کی وجہ سے مجھے قبول نہیں کرتے پس مخل کا استعمال پنجابی نہیں بلکہ خالص قرآنی ثابت ہوا۔اس خالص قرآنی استعمال نے برق صاحب کی قرآن دانی کا بھانڈا بھی پھوڑ دیا۔سچ فرمایا تھا اللہ تعالیٰ نے اعجاز انسح کے متعلق اپنے الہام میں کہ جو اس کے جواب کے لئے کھڑا ہو کر حملہ آور ہو گا وہ ندامت اٹھائیگا۔فاعتبر وایا اولی الابصار اعتراض نمبر ۳ الد الحفا فيش وقرا( صحيح وكرا ) لحناتهم لحنانھم پرل غلط ہے۔اس لئے کہ اتخذ دو مفعول چاہتا ہے جنان پہلا مفعول ہے۔مفعول پر لام لانا درست نہیں۔الجواب (حرف محرمانه صفحه ۴۱۳) یہ لفظ آجنَا نَهُمُ ہے۔کاتب نے شکتہ محط کی وجہ سے الف کو لام سمجھ کرج سے ملا دیا ہے۔اجنان جنان کی جمع ہے۔اور اس فقرے کے یہ معنے ہیں کہ۔" چمگادڑوں نے ان کے دلوں کو گھونسلہ بنالیا۔“ لجنا نہم سے تو فقرہ کے کچھ معنے ہی نہیں ہے۔کیونکہ پھر ترجمہ یہ بن جاتا ہے۔