تحقیقِ عارفانہ — Page 54
۵۴ پیدا ہونا۔پس اس حدیث میں امت کے اندر نبی کے پیدا ہونے کا امکان قرار دیا گیا ہے۔اگر نبوت کا دروازہ کلیہ ہند ہوتا توال ان يكون نبی کے الفاظ سے نبی کا استثناء جائز شہ ہو تا۔بلکہ یہ ایک لغو فعل ہوتا جو آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔دوسری حدیث میں وارد ہے۔ہو۔66 ابو بكر حَيْرُ النَّاسِ بَعْدِى الأَن يَكُونَ نَبِي - وو (کنز العمال جلد ۹ صفحه ۱۳۸) یعنی ابو بکر میرے بعد سب لوگوں سے بہتر ہیں بجز اس کے کہ کوئی نبی پیدا ایک تیسری حدیث ملاحظہ ہو جو امت محمدیہ میں نبی کے امکان پر روشن دلیل ہے۔یہ حدیث امام جلال الدین سیوطی اپنی کتاب الخصائص الکبری جلد اول صفحہ ۱۲ پر لائے ہیں۔اور اسی حدیث کو مولوی اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب نشر الطیب فی ذکر الطبیب کے صفحہ ۲۶۱،۶۲ پر حوالہ حلیہ ابو نعیم اور الرحمة المهداة نقل کیا ہے یہی حدیث ترجمان السنہ کے صفحہ ۴۲۴ پر مولوی بدر عالم صاحب میرٹھی نے نسیم الریاض کی شرح سے درج کی ہے۔اور حاشیہ میں ایک قول نقل کیا ہے۔رَوَاهُ أَبُو نَعِيمٍ فِى الْحِلْيَةِ وَوَرَدَ لِمَعْنَا هُ عَلَى طُرُقِ كَثِيرَةٍ كَمَافِي الخَصَائِصِ 66 یعنی اس روایت کو ابو نعیم نے حلیہ " میں روایت کیا ہے اور اس کے بالمعنی روایات کئی طریقوں پر مروی ہیں جیسا کہ الخصائص میں ہے۔“ پس یہ روایت جو کئی طریق سے مروی ہے اسے ہم الخصائص الکبری کے حوالہ سے اس جگہ درج کرتے ہیں۔