تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 637 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 637

کے لفظ ہیں۔جب عربی زبان میں مصدر کو مضاف کیا جائے ایسی اضافت لفظی کہلاتی ہے۔جو کبھی تو اپنے فاعل کی طرف ہوتی ہے۔اور کبھی مفعول کی طرف۔اس جگہ انکاری اور اقراری میں انکار و اقرار کی اضافت فاعل کی طرف نہیں بلکہ مفعول کی طرف مراد ہے۔لہذا اس فقرہ میں حضرت مرزا صاحب کا کسی چیز کا اقرار اور کسی چیز کا انکار مراد نہیں۔بلکہ آپ کا انکار کیا جاتا اور مانا جانا مراد ہے۔برق صاحب اس قاعدہ سے نا آشنا ہیں کہ مصدر کی اضافت مفعول کی طرف بھی ہوتی ہے اور اس صورت میں مصدر کے معنے مصدر مجہول کے ہو جاتے ہیں۔پس اس کے معنے ہیں میرا انکار کیا جانا اور میرا اقرار کیا جانا۔”انکار " مصدر کے ضمیر کی طرف مضاف ہو کر استعمال کی مثال بھی ملاحظہ ہو۔تفسیر کشاف میں زیر آیت فما يُكذبُكَ بَعْدُ بِالدِّينُ (التين : ۸) لکھا ہے۔أَى فَمَا يَجْعَلُكَ كَاذَ بِالسَبَبِ الدِّينِ وَإِنْكَارِهِ بَعْدَ هَذَا الدَلِيلِ۔اور تفسیر روح المعانی میں زیر آیت ہذا لکھا ہے :- أَى فَمَا يَجْعَلُكَ كَأَذَباً بِسَبَبِ الْجَزَاءِ وَإِنْكَارِهِ بَعْدَ هَذَا الدَلِيلِ - رہا برق صاحب کا یہ اعتراض کہ انکار اور اقرار مفرد ہیں اور ان دونوں کی خبر جمع لائی گئی ہے۔سو یہ اعتراض بھی لغو ہے۔برق صاحب نے اپنے تئیں عربی ادب کے بھر کا شناور سمجھ رکھا ہے۔حالانکہ ان پر اس کنویں کے مینڈک کی مثل صادق آتی ہے جس نے کنویں کے ایک طرف سے دوسری طرف چھلانگ لگائی اور سمجھنے لگا کہ سمندر اس سے بڑا کہاں ہو گا ؟ اگر وہ قرآنی زبان سے ہی ذرا مس رکھتے تو کبھی تو ایسا لا یعنی اعتراض زبانِ قلم پر نہ لاتے۔انکار و اقرار دونوں مصدر ہیں جو مبتدا واقع ہوئے ہیں۔اور حسرات اور بركات ان کی خبر جمع اس لئے لائی گئی ہے کہ منشاء متکلم یہ تھا کہ میرا انکار منکرین کے لئے حسرہ بعد حسرہ کا موجب ہو گا۔اور ایسا شخص کئی پہلوؤں سے اپنے لئے حسرتوں