تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 630 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 630

۶۳۰ سے یہی ہے اس کا فعل ضلالت ہے اور روح اسلام کے خلاف ہے۔پس برق صاحب کا یہ اعتراض بھی لغو اور ان کے عربی علم ادب میں پس ماندگی کا ثبوت ہے۔: فَفِرِيقٌ عُلِمُوا مَكَائِدَ الْأَرْضِ وَفَرِيقٌ أَعْطُوا مَا أُعْطِيَ الرُّسُلُ مِنَ الهُدى اس عبارت پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ : (خطبہ الہامیہ صفحہ ۶ ۷ طبع اول) مکر و سازش انسان کا کام ہے یا شیطان کا۔زمین پہاڑ یا تارے کوئی شرارت نہیں کر سکتے۔لیکن آپ زمین کو بھی مکار سمجھتے ہیں۔“ (حرف محرمانہ صفحہ ۴۰۶) الجواب اس عبارت کا ترجمہ یہ ہے کہ ایک گروہ نے زمینی فریبوں سے تعلیم پائی۔اور دوسرے گروہ کو وہ چیزیں دی گئیں جو ہدایت میں سے انبیاء اور رسولوں کو دی گئیں۔“ اس عبارت میں مَكَائِدُ الْاَرْضِ سے مراد مَكَائِدُ أَهْلِ الْأَرْضِ ہیں مكائد الارض میں محاورہ کے مطابق اهل کا لفظ محذوف ہے۔گویا ارض سے اور مجاز مرسل کے اَهْلِ الْأَرضِ مراد ہیں۔ظرف بول کر مظروف مراد لینے کا طریق ہر زبان میں رائج ہے۔خود قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- فلولا كَانَتْ قَريةٌ آمَنَتْ (یونس : ٩٩) ہ کیوں کوئی بستی ایمان نہیں لائی۔“ یہاں قریہ جو ظرف ہے اسے استعمال کر کے مظروف یعنی اہل قریہ مراد ہیں۔پس جس طرح قریہ کا استعمال اس آیت میں بطور مجاز مرسل کے ہے اور مراد اس سے اہلِ