تحقیقِ عارفانہ — Page 622
۶۲۲ جسم بے چین و بے قرار ہو جاتا ہے۔جناب برق صاحب ! اگر آپ کو درد رسانی کے لئے دوسرے آدمی کی ہی تلاش ہے تو حقیقۃ الوحی میں ایک دوسرا آدمی بھی اس جگہ مذ کو رہے جس کو اس کے بھائی کی ران کا درد درد مند کر رہا تھا۔چنانچہ اس لئے وہ اپنے اس بھائی کو جلدی میں بلا زین گھوڑے پر سوار کرا کے علاج کے لئے لایا۔اس کے بھائی کی ران میں درد اتنی شدید تھی کہ اسے جلدی میں گھوڑے پر زین کنے کے لئے وقت صرف کرنا بھی دوبھر تھا۔مامورین الہی کے مکذبین بھی کتنے تنگ نظر ہوتے ہیں۔وہ کلام کے حسن کو نہیں دیکھتے عیب ہی تلاش کرتے ہیں۔حالانکہ یہ الہام تو خدا کا ایک نشان ہے کہ ادھر یہ الہام ہوا ادھر پورا ہو گیا۔مگر برق صاحب اس نشان سے فائدہ اُٹھانے کی جائے اس میں ادبی غلطیاں تلاش کر رہے ہیں۔حالانکہ یہ اعتراض خود ان کی ادمی بد ذوقی کا ثبوت ہے۔"المنجد ہی پڑھ کر دیکھ لیتے اس میں لکھا ہے :- وَجَعَ فُلاناً رَأْسُه - اس کے سر نے فلاں کو درد مند کیا۔(المنجد : باب ۹) مراد یہ ہے کہ اس کے سر میں شدید درد ہے۔جس کی وجہ سے وہ بے چین ہے۔پس فيذاً أليما کے معنے فَخِذَا مُوَجعاً ٹھیک ہیں۔مگر تعدیہ درد کا صاحب الفخذ کے لئے ہے۔یعنی ران کی تکلیف صاحب ران کو سخت درد مند کر رہی تھی۔پس جب ران درد ناک تھی اور صاحب ران اس کی وجہ سے درد مند تھا تو ر ان اس کے لئے الیم یعنی در در سان ہوتی۔فافهم و تدبّر۔: " وَ إِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُو بِشِفَاءٍ مِنْ مِثْلِهِ۔“ - 66 (حقیقۃ الوحی صفحه ۲۳۵ طبع اول) یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس وقت ہوا جب آپ شدید قولنج