تحقیقِ عارفانہ — Page 610
۶۱۰ اس الہام پر بھی دو اعتراض کئے گئے ہیں۔اول :- ” یہاں ایک خدائی نعمت و عطاء کا ذکر ہے۔اس لئے اعطينك زیادہ مناسب تھا گو قواعد کے لحاظ سے آتینک بھی صحیح ہے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۳۹۰) گویا اعتراض یہ ہوا کہ زیادہ مناسب لفظ اعطينك کے مقابلہ میں کم مناسبت رکھنے والا لفظ آتينك استعمال کر دیا گیا ہے۔الجواب قرآن کریم نے خدائی نعمت کے دیا جانے کا ذکر کرتے ہوئے صرف ایک جگہ اعطيتك کے لفظ سے نعمت دینے کا ذکر کیا ہے۔جیسے فرمایا :- إِنَّا أَعْطَيْنكَ الكوثر (الكوثر : ۲) مگر قریب ترین دفعہ نعمت دینے کے لئے اس کی بجائے ا تینا کا لفظ ہی استعمال فرمایا ہے۔اگر اعطینا کا لفظ آئینا کے مقابلہ میں نعمت دینے کے لئے زیادہ مناسب تھا تو برق صاحب بتائیں کہ قرآن کریم میں نعمت دینے کے لئے آئینا کو اعطینا کے مقابلہ میں کیوں بہت اکثریت سے استعمال کیا گیا ہے ؟ اس جگہ آئینا کی چند مثالیں درج ہیں :- ا آتَيْنَا مُوسَى الكِتبَ تَمَاماً عَلَى الَّذِي أَحْسَنَ (الانعام : ۱۵۵) : - آتِينَا ألَ إِبْرَاهِيمَ الكِتبَ وَالْحِكْمَةَ - : - آتَيْنَا دَاوُدَ و سُلَيْمَنَ عِلماً - : - آتَيْنَا لُقُمْنَ الحِكْمَةَ - ۵ : - آتَيْنَا مُوسَى سُلْطَاناً مُبِينًا۔: - آتينهُ مِنَ الكنوز - (النساء : ۵۵) (النمل : ١٦) (لقمن : ۱۳) (النساء : ۱۵۴) (القصص: ۷۷)