تحقیقِ عارفانہ — Page 609
۶۰۹ محمول کر کے ھو کی ضمیر کا مرجع قرار دیا گیا ہے۔مخلوق چونکہ مذکر اور مفرد ہے اس لئے ھو کی ضمیر مفرد مذکر استعمال کی گئی۔حضرت اقدس اس الہام کے متعلق خود تحریر فرماتے ہیں :- " هوکا ضمیر واحد باعتبار واحد في الذهن یعنی مخلوق ہے۔اور ایسا محاورہ قرآن (انجام آتھم حاشیہ صفحہ ۵۲) شریف میں بہت ہے۔سراج منیر صفحہ ۸۱ حاشیہ پر تحریر فرماتے ہیں۔ضمیر ھو اس تاویل سے (واحد ) ہے۔کہ اس کا مرجع مخلوق ہے۔“ اگر یہ سوال ہو کہ کیا ایسی تاویل جائز ہے ؟ تو مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ پر غور فرمائیے۔:1 - الله ورسولُهُ أَحَقُّ ان يُرضوه اس آیت میں اللہ اور رسول کی طرف مفرد کی ضمیر دونوں کا ایک مقصد ہونے کی وجہ سے راجع کی گئی ہے۔: - وَ الَّذِينَ يَكْبَرُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَثِيرُهُم بِعَذَابٍ أَلِيم (التوبه : ۳۴) اس آیت میں ذهب (سونا) اور فضة (چاندی) دو چیزیں مذکور ہیں۔جن میں سے ایک مذکر ہے اور دوسری مونث لیکن ان دونوں کی طرف تثنیہ کی ضمیر هما کی بجائے واحد مونث کی ضمیر کا راجع کی گئی ہے۔اس کی توجہ یہ ہے کہ ذھب اور فضه کو ثروت قرار دے کر ان دونوں کی طرف واحد مونث کی ضمیر ھا راجع کی گئی ہے۔کیا برق صاحب ان آئیوں کے الہامی کلام ہونے سے انکار کر دیں گے۔یا ان میں ہماری تاویل سے ہی کام لیں گے۔۲ : - "أنا آتيناك الدنيا"