تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 604 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 604

۶۰۴ ایمان تازہ کرنے کی بجائے اسے اعتراض کا نشانہ بار ہے ہیں۔صد حیف۔۴ : اکثر لوگ عقل کی بد استعمالی سے ملالت کی راہیں پھیلا رہے ہیں۔“ (ازالہ اوہام صفحہ ۷۶۷ ) پوری عبارت یوں ہے :- اسلام کے ضعف اور غربت اور تنہائی کے وقت میں خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔تا میں ایسے وقت میں جو اکثر لوگ عقل کی بد استعمالی سے ضلالت کی راہیں پھیلا رہے ہیں۔اور روحانی امور سے رشتہ مناسبت بالکل کھو بیٹھے ہیں اسلامی تعلیم کی روشنی ظاہر کروں۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ اب وہ زمانہ آگیا ہے کہ اسلام اپنا اصلی رنگ نکال لائے گا۔اور اپنا د کمال ظاہر کرے گا جس کی طرف آیت نیظهره علی الدین کلہ میں اشارہ ہے۔“ عبارت کا مفہوم واضح ہے۔اس میں کوئی ابہام نہیں۔جناب برق صاحب نے نہیں بتایا کہ ضلالت کی راہیں پھیلانا کیوں قابلِ اعتراض ہے۔اگر ضلالت پھیلانا کے الفاظ قابل اعتراض نہیں تو ضلالت جس کی کئی را ہیں یعنی مذاہب ہیں۔ان کے پھیلانے کا ذکر کیوں خلاف فصاحت ہے۔مذاہب کے لئے تو پھیلانے ہی کا استعمال موزوں اور فصیح ہے۔:- " اس قدر عرض کرنا اپنے بھائیوں کے دین اور دنیا کی بہبودی کا موجب سمجھتا ہوں۔کہ اگرچہ گورنمنٹ کی رحمانہ نظر مسلمانوں کی شکستہ حالت بہر حال قابل رحم ٹھہرے گی۔“ الجواب اس عبارت میں سمو کتابت سے لفظ " نظر " کے بعد میں " کا لفظ رہ گیا ہے اس قسم کی کتابت اور طباعت کی غلطیوں کو نظر انداز کرنے کی بجائے ان پر سنجیدہ بن کر