تحقیقِ عارفانہ — Page 588
۵۸۸ کسی چیز کو خدا کی ملکیت ان معنوں کی رُو سے قرار دینا جن معنوں سے انسانی ملکیت قرار دی جاتی ہے یہ ایک ایسا قرار داد ( قرار دینانا قل) ہے۔جس کی رو سے خدا تعالے انسان کے برابر ٹھہر جاتا ہے۔" ( چشمه معرفت صفحه ۸، ۹ طبع اول) روح کا لفظ جان کے معنوں میں مونث ہے۔لیکن انسانی کمال کے منبع وو کے معنوں میں حضرت اقدس نے اسے چشمہ معرفت کی عبارت سے کئی سال پہلے ازالہ اوہام میں مونث بھی استعمال فرمایا ہے۔چنانچہ تحریر فرماتے ہیں :- ”ہمارے نبی ﷺ نے چونکہ ان جسمانی امور کی طرف توجہ نہیں فرمائی اور تمام زور اپنی روح کا دلوں میں ہدایت پیدا کرنے کے لئے ڈالا اسی وجہ سے تکمیل نفوس میں سب سے بڑھ کر رہے۔“ چشمہ معرفت کی عبارت میں انسانی روح کا حیوانی روح سے تقابل منظور تھا۔اس لئے آپ نے انسانی روح کو منع کمال کے معنوں میں حیوانی روح کے بالمقابل مذکر استعمال کیا ہے۔اور حیوانی روح کو اس کے بالمقابل مونث استعمال کیا ہے۔چنانچہ تحریر فرماتے ہیں :- جس قدر انسانی روح اپنے کمالات ظاہر کر سکتا ہے یا یوں کہو جس قدر کمالات کی طرف ترقی کر سکتا ہے وہ کمالات ایک ہاتھی کی روح کو باوجود منحنیم اور جسیم ہونے کے حاصل نہیں ہو سکتے۔“ (چشمہ معرفت صفحه ۱۰ طبع اول) تقابل کے وقت حیوانی روح کے بالمقابل انسانی روح کو مذکر استعمال کرنا تو ایک صنعت ہے۔جو کلام میں حسن پیدا کرتی ہے مگر برق صاحب نگاہ بد اندیشی اس کے مذکر استعمال کو قابل اعتراض قرار دیتے ہیں۔ہیں :- "بہشت کا لفظ بتاویل مقام مذکر استعمال کیا گیا ہے۔دیکھئے ناسخ لکھتے