تحقیقِ عارفانہ — Page 589
۵۸۹ جمع و مفرد پس از فتا بھی کسی طور سے قرار نہیں ملا بہشت تو کہتا ہوں کوئے یار نہیں (رساله تذکیر و تانیث اردو) جناب برق صاحب لکھتے ہیں اگر فاعل جمع ہو تو فعل کا جمع ہونا ضروری ہے۔اور مرزا صاحب اس پابندی کے بھی قائل نہیں اس کے بعد برق صاحب نے اس اعتراض کی چند مثالیں دی ہیں :- اب جس قدر میں نے پیشگوئیاں بیان کی ہیں۔۔۔صدق یا کذب کے آزمانے کے لئے یہی کافی ہے۔“ الجوب اس عبارت کے درمیان سے جناب برق صاحب نے بعض الفاظ حذف کر دیئے ہیں۔جو یقیناً طوالت سے چنے کے لئے نہیں کیونکہ حذف صرف بطور نمونہ کے " تمین الفاظ کئے ہیں۔برق صاحب نے اعتراض کو صحیح بنانے کے لئے انہیں دانستہ حذف کیا ہے۔اصل عبارت یوں ہے :- اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیشگوئیاں بیان کی ہیں در حقیقت میرے صدق یا کذب کے لئے یہی کافی ہے۔“ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ ”یہی کافی ہے“ کے الفاظ کا بصورت مفرد استعمال لفظ " نمونہ " کی مناسبت سے کیا گیا ہے۔نہ کہ پیشگوئیوں کی مناسبت سے۔مراد یہ ہے کہ یہ نمونہ پیشگوئیوں کا میرے صدق یا کذب آزمانے کیلئے کافی ہے۔کیا اس طرح کلام میں دانستہ تحریف سے برق صاحب کی کتاب حرف محرمانہ کی بجائے ༣