تحقیقِ عارفانہ — Page 577
غالب :- ۵۷۷ جو کہ بخشے گا تجھ کو فر- فروغ کیا نہ دے گا مجھے مئے گل فام غالب اس جگہ ”وہ جو بھی کہہ سکتے تھے مگر انہوں نے ”جو کہ “ کو ترجیح دی ہے۔آتش :- جرات :- حضوری نگاہوں کو دیدار سے تھی اٹھا تھا وہ پردہ کہ جو درمیان تھا کیوں کر اب اس سے ملاقات ہو اک آن کہیں۔دل دیا اس کو کہ آیا تھا جو مہمان کہیں حیرت ہے کہ کل اس نے کسی کان میں اپنے وہ بات کہ مطلق نہ تھی جو دھیان میں اپنے ز کی مراد آبادی :- خواجہ وزیر :- جو کہ رکھتے تھے فقیرانہ لباس کا مزہ ان کے دل کو ہوس اطلس و کمخواب کہاں صد چاک ہو وہ دل کہ جو درد آشنانہ ہو پھوٹے وہ آنکھ جس سے کہ آنسو گرا نہ ہو آباد لکھنوی :- آرزوئے قتل ہے خنجر گلے پر پھیر دے کون وہ رگ ہے کہ جو مشتاق گردن میں نہیں