تحقیقِ عارفانہ — Page 46
۴۶ أطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِى الأمر مِنكُمُ (النساء : ۲۰) بھی ہمارے معنوں کے خلاف نہیں۔کیونکہ آیت يَا بَنِی آدَمَ إِمَّا يَا تِيَنَّكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ آئندہ رسولوں کی آمد کے امکان کو بیان کر کے اس کو ماننا ضرور قرار دے رہی ہے۔پس آنحضرت علی کے فیض سے ہونے والے رسول کی اطاعت بھی آیت أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُول کے حکم کے ماتحت واجب ہو گی۔اور آیت آمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَبِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَ الْكِتَبِ الَّذِى أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ (النساء : ۱۳۷) بھی ان معنوں کے خلاف نہیں اس آیت میں بعد کی وحی پر ایمان لانے کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا۔کہ اس کا ذکر اعمال و الكِتَابِ الَّذِئ نَزَّلَ عَلَى رَسُولِه میں موجود ہے۔کیونکہ اس کتاب میں دوسری جگہ رسولوں کے آنے کا ذکر موجود ہے۔اور قرآن مجید کی آیت و الكتب الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ پر صحیح طور پر اسی شخص کا ایمان ہو سکتا ہے جو اس کی بیان کردہ ان ہدایات پر بھی ایمان رکھتا ہو جو آئندہ رسولوں اور نبیوں کی آمد کے امکان اور وحی کے نزول سے تعلق رکھتی ہیں۔اس آیت کے آخر میں وما ينزل من بعدك كے الفاظ لانے کی ضرورت نہ تھی۔کیونکہ یہ الفاظ لانے سے یہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی تھی کہ آپ کے بعد بھی شریعت جدیدہ نازل ہو گی۔حم سجدہ کی آیت إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَ لَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كنتُمْ تُوعَدُونَ۔( حم السجده : ۳۱) آئندہ وحی کے نزول پر نص صریح ہے۔پھر آیت يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أنزل من قبلك (البقره: ۵) کے بعد بھی وما ينزل من بعدك كے الفاظ لانے کی ضرورت نہ تھی۔کیونکہ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ میں آئندہ مبعوث ہونے والے رسولوں کا ماننا جن کا ذکر سورۃ اعراف کی آیت (۳۶) يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَا بَيْنَكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ میں ہے ضروری قرار دے دیا گیا ہے۔پس ما أُنزِلَ إِلَيْكَ پر اسی شخص کا ایمان صحیح ہو سکتا ہے جو سورۃ اعراف کی آیت کے حکم کو بھی