تحقیقِ عارفانہ — Page 552
۵۵۲ کامل دو سال یعنی چوبیس مہینوں کو تیں مہینوں سے منفی کیا جائے تو وضع حمل کی اقل مدت چھ ماہ ہی قرار پاتی ہے۔اور چونکہ اسبات کا امکان ہوتا ہے جیسا کہ مین صاحب کے بیان سے ظاہر ہے کہ تین ماہ کے وقفہ سے حمل ٹھہر سکتا ہے اس لئے حاملہ عورت کی عدت اسی لئے وضع حمل قرار دی گئی تا اختلاط نسل کا اندیشہ نہ رہے۔نواں اعتراض حضرت اقدس چشمہ معرفت صفحہ ۳۲۷ میں تحریر فرماتے ہیں :- ”اور موتی کا کیڑا بھی ایک عجیب قسم کا ہوتا ہے۔اور بہت نرم ہوتا ہے اور لوگ اس کو کھاتے بھی ہیں۔“ ور جناب برق صاحب نے اس بات کی یوں ہنسی اڑائی ہے :- ہے کوئی گوہر شناس جو اس نکتہ کی تائید کرے۔“ سمندر کے کناروں پر رہنے والے لوگ ہر قسم کے سمندری جانوروں کو کھاتے ہیں۔اگر سمندر سے دور رہ کر جناب برق صاحب کو اس کا علم نہیں تو اپنی نا واقعی کو وہ حقائق کے رد میں دلیل قرار نہیں دے سکتے۔دسواں اعتراض سیرت المہدی میں ایک روایت ان الفاظ میں درج ہے کہ :- بٹیر کے گوشت میں طاعون پیدا کرنے کی خاصیت ہے۔“ اس پر برقی صاحب کا اعتراض ہے کہ :- کیا کوئی پہر طلب اس پر روشنی ڈالیں گے ؟" أ