تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 549 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 549

۵۴۹ چنانچہ امت محمدیہ کے مسیح موعود حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو کئی امور میں حضرت مسیح من مریم علیہ السلام سے مشابہت ہے۔ان میں سے ایک امر یہ بھی ہے کہ جس طرح یہودی علماء نے اپنے صحیح وقت کا انکار کیا تھا اور اس کی تکفیر بھی کی تھی اسی طرح مسیح محمدی کے زمانہ کے علماء بھی اس کی اسی طرح تکفیر کرنے والے تھے۔واقعات نے یعنی علماء کے فتووں نے مماثلت کے اس پہلو کو واضح کر دیا ہے۔کہ قرآن مجید کی اس آیت میں مسیح محمدی کی تکفیر کیا جانے کی مماثلت بھی ملحوظ ہے احادیث نبویہ بھی یہ بتاتی ہیں کہ امت محمدیہ یہود و نصاری سے مشابہت اختیار کرلے گی۔چنانچہ ایک حدیث میں وارد ہے :- لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبُرا بِشِبُرٍ وَذِرَا عَا بِذِ رَاعٍ - ( صحیح بخاری جلد ۴ صفحه ۱۸۹) یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ ضرور پہلی قوموں کی اس طرح پیروی کرو گے جس طرح ایک بالشت دوسری بالشت کے برابر ہوتی ہے۔یا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے برابر ہوتا ہے۔اس پر صحابہ کرام نے پوچھا " اليهود و النصاری کیا پہلے لوگوں سے مراد آپ کی یہود و نصارٹی میں تو رسول اللہ اللہ نے فرمایا "فمن اور کون ؟ پس یہود نے جس طرح اپنے مسیح موعود کا انکار اور تکفیر کی تھی اسی طرح ضروری تھا کہ اس پیشگوئی کے مطابق امت محمدیہ کے مسیح موعود کی بھی علماء کی طرف سے تکفیر کی جاتی۔سورۃ فاتحہ کی دعاغَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں اس بات کا اشارہ موجود ہے کہ امت محمدیہ کے کچھ افراد یہود کی طرح مغضوب عليهم بننے والے تھے کیونکہ آیت "وَبَاؤُ و ابغَضَبِ على غضب" میں یہود کے مَغضُوبِ عَلَيْهِمْ ہونے کی بڑی وجہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کی تکفیر بھی تھی۔پس قرآن مجید اور احادیث نبویہ دونوں میں اس بات کے