تحقیقِ عارفانہ — Page 511
۵۱۱ صاحب نے خود غلط درج کر دیا ہے۔انگریزی زبان میں ایکھینچ کا لفظ چینج کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔دیکھئے آکسفورڈ ڈکشنری اور ڈکشنری Marreys۔علاوہ ازیں ایکسچینج کا لفظ انٹر چینج کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اگر اس لحاظ سے الہام کے الفاظ کو دیکھا جائے تو الہام کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ تعالی کے الہامی الفاظ آپس میں تبدیل نہیں ہو سکتے اور مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس قدر افصح اور اہلغ ہوتا ہے کہ اس کا ہر لفظ اپنی جگہ پر نہایت موزون ہو تا ہے۔اگر کسی لفظ کو اپنی جگہ سے ہٹا کر اس کی جگہ دوسر الفظ ر کھا جائے تو عبارت کا مفہوم بگڑ جائے گا۔وو الهام : - "۔You have to go Amritsar میں امر تسر سے پہلے ٹو کا لفظ سو کتابت سے رہ گیا ہے۔چنانچہ اس الہام سے قبل اس الہام سے بالکل مشابہ الہام ان الفاظ میں ہو چکا تھا۔”دین ول یو گوٹو امر تسر۔اس جگہ گو“ کے ساتھ ”ٹو کا استعمال موجود ہے۔(براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحه ۷۰ ،۴۶۹، بر حاشیہ نمبر ۳ و تذکره صفحه ۵۴) الهام۔He haults in Peshawer پورا الہام درج نہیں کیا گیا۔پورا الهام یوں ہے۔ہی بائٹس ان دی ضلع پشاور۔آکسفورڈ ڈکشنری Zilla کے معنی Kdminstratiue dirtrich لکھے ہیں۔اس طرح پس ضلع کا لفظ انگریزی زبان میں اپنایا جا چکا تھا۔الهام "۔God is coming by his army“ گاڈ از کمنگ بائی ہر آرمی۔“ اس الہام کا مفہوم یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی افواج کے ذریعہ آرہا ہے یعنی خدا کا آنا بذریعہ افواج ( ملائکہ ) ہو گا۔علاوہ ازیں بائی (By) کا لفظ ودھ (With) کے معنوں میں بھی