تحقیقِ عارفانہ — Page 510
۵۱۰ اینٹ کہیں کا روڑا جوڑ کر اپنا مطلب سیدھا کرنے کی کوشش کی ہے۔حالانکہ چشمہ معرفت کی یہ عبارت آریوں کے اس خیال کے رد میں ہے کہ خدا تعالیٰ انسانی زبان میں کلام نہیں کرتا بلکہ اپنے رشیوں پر خود اپنی زبان سنسکرت میں کلام کرتا رہا ہے۔آریوں کے اس خیال کے رد میں ہی اوپر کی عبارت لکھی گئی ہے۔حضرت اقدس کو جو الہامات ہوئے ہیں وہ تو سب انسانی زبان میں ہوئے ہیں۔ایسا نہیں ہوا کہ خدا تعالٰی نے ایسی زبان میں کلام کیا ہو جسے کوئی نہ جانتا ہو۔پس برق صاحب نے چشمہ معرفت کی اس عبارت کو اس جگہ خلاف منشائے متکلم جوڑا ہے۔چونکہ انہوں نے انگریزی الہامات کے متعلق زبان کی کسی غلطی کی طرف اشارہ نہیں کیا اس لئے ان کے بارہ میں یہ عرض کر دینا ضروری ہے کہ یہ تمام الہامات زبان کے لحاظ سے درست ہیں اور عظیم الشان حقائق پر مشتمل ہیں۔چنانچه الهام اول ”we can what we will do“ بتاتا ہے کہ خدا ہر شے پر قادر ہے۔اس میں لفظ "کین قدرت مطلقہ کے لئے ہے نہ کسی خاص فعل کے اظہار کے لئے۔اور الہام دوم 66 " Though all men should be angry, God is with you۔He shall help you۔Words of God not can exchange۔" بتاتا ہے کہ اور تمام دنیا بھی تم سے ناراض ہو تو خدا پھر بھی تمہاری تائید کرے گا۔اور تمہاری مدد کرے گا یہ خدا کے الفاظ ہیں جو تبدیل نہیں ہو سکتے۔آخری فقرہ کا ترجمہ یہ ہر گز نہیں کیا گیا خدا کے کام بدل نہیں سکتے۔بلکہ یہ کہا گیا ہے ”خدا کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔مراد یہ ہے کہ مدد کا وعدہ ضرور پورا ہو گا۔(براہین صفحہ ۵۵۴) انگریزی کا نقره ناٹ کمین اینچ در اصل کین ٹاٹ ایکسچینج ہے۔اسے برق