تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 508 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 508

۵۰۸ فقرے کی موجودہ بناوٹ کافی مضحکہ خیز ہے۔”بہت سے “ یہاں” سے کا کو نسا موقعہ ہے۔"میرے سلام " کی جگہ " سلام میرے کیوں ؟ تقدیم مضاف الیہ کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔" تجھ پہ " کی جگہ " تیرے پر " معمل ہے۔" تیرا ضمیر اضافت ہے۔اس کے ساتھ مضاف الیہ کا ہونا ضروری ہے۔“ الجواب یہ الہام خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے پسندیدہ اسلوب میں نازل فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود اہل پنجاب کے اسلوب کے مطابق ”تجھ پر “ کی بجائے تیرے پر “اور ” مجھ پر “ کی بجائے ” میرے پر “ کے الفاظ استعمال فرماتے تھے۔اور ان کا استعمال حذف مضاف کرتے تھے۔یعنی " تیرے وجود پر “ اور ” میرے وجود پر “ چونکہ آپ کو اردو زبان میں ان الفاظ کا استعمال پسند تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے آپ سے " محبت کے اظہار کے لئے آپ کے اس پسندیدہ اسلوب پر زیر حث الهام نازل فرمایا۔چونکہ اردو زبان کئی زبانوں کے الفاظ سے وجود میں آئی ہے اور اس میں پنجابی کے الفاظ سب سے زیادہ استعمال ہوئے ہیں اس لئے اس میں پنجابی اسلوب کلام کے استعمال کو نا جائز قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔خصوصاً اہل پنجاب کے لئے۔”بہت “ کے لفظ کے ساتھ ” سے “ کا استعمال اس جگہ فصیح ہے کیونکہ اس جگہ ”سلام کی کیفیت معنوی کے ساتھ اس کی کمیت پر کثرت بھی مراد ہے اسی لئے اس کے نیچے اس کے ترجمہ میں بکثرت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے پھر لفظ ”سلام “اس جگہ مضاف نہیں بلکہ ” میرے “ مضاف الیہ کا مضاف اس جگہ محذوف ہے جو لفظ سلام ہے اور اس سے پہلے ”بہت سے سلام“ کے الفاظ اس کے لئے قرینہ ہیں پس مضاف کو مضاف الیہ سے پہلے لانے کا اعتراض ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔وو تیرے پر " میں تیرے کے بعد اس کا مضاف لفظ "وجود " محذوف ہے یعنی