تحقیقِ عارفانہ — Page 507
۵۰۷ اور الزام حضرت اقدس پر ایسا کرنے کا لگاتے ہیں۔اس الہام میں آسمانی علوم کو تشبیہ دے کر دودھ سے استعارہ کیا گیا ہے۔اور حقائق و معارف کے لئے ”دودھ " سے بڑھ کر کوئی اچھا مشبہ بہ نہیں ہے۔معراج میں آنحضرت مے کو دودھ اور پانی پیش کیا گیا۔اور آپ نے دودھ اختیار کیا۔جس پر فرشتہ نے کہا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا ہے۔اگر پانی کو اختیار کرتے تو آپ کی ساری امت تباہ ہو جاتی۔پس دودھ سے مراد وہ معرفت و علم ہے جس سے فطرت انسانی کی تربیت ہوتی ہے۔جناب برق صاحب نے اپنی کتاب کے خاتمہ میں صفحہ ۳۳۲ پر لکھا ہے :- ” ہمارا آغاز سے ارادہ تھا کہ ہم اس مسئلہ کے تمام پہلوؤں پر منصفانہ اور غیر جانبدارانہ نگاہ ڈالیں۔کہیں تحریف نہ کریں کسی عبارت کو مصنف کی منشاء کے خلاف مسخ نہ کریں۔اور کوئی دل آزار لفظ ساری کتاب میں داخل نہ ہونے دیں۔الحمد للہ کہ ہم ان ارادوں میں کامیاب رہے ہیں۔“ ہم ان کی خود سرائی کے متعلق کیا کہمیں :- قیاس کن زگلستان من بیمار مرا " " 66 برق صاحب کیا دودھ کو دود" بنادینا حضرت اقدس کے واضح منشاء کے خلاف نہیں۔حضرت اقدس نے تو اسے حقائق و معارف کا دودھ “ قرار دیا ہے۔اب بتائیے دودھ کو دود" لکھ کر دھواں قرار دینا منشائے متکلم کو مسخ کرنا ہے یا نہیں ؟ " " انصاف۔انصاف۔انصاف۔جناب برق صاحب آپ الحمد اللہ کس بات پر کہتے ہیں استغفر اللہ کیسے تا خدا آپ کا یہ گناہ معاف کرے۔نمبر ۲ : - "بہت سے سلام میرے تیرے پر ہوں۔اس پر اعتراض کیا ہے۔