تحقیقِ عارفانہ — Page 498
۴۹۸ زبان میں جس طرح دوسرے کے خیالات کو سمجھ سکتا ہے۔غیر زبان میں جس میں وہ کامل مہارت نہ رکھتا ہو دوسرے کے خیالات کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکتا۔چونکہ ہمارے ملک کی علمی زبان اردو تھی اس لئے حضرت مسیح موعود نے اکثر کتابیں اردو میں لکھیں۔چونکہ فارسی زبان بھی ہمارے ملک میں پڑھی جاتی تھی اور اسلامی لٹریچر فارسی میں بھی بہت سا موجود تھا اور ہمارے ملک والوں کو اس سے دلچسپی بھی تھی اس لئے آپ نے فارسی منظوم کلام بھی کہا اور اپنی بعض عربی کتابوں کا ترجمہ فارسی میں بھی کر لیا۔تا کہ جو عربی دان نہیں وہ فارسی زبان میں اس کا مفہوم سمجھ سکیں۔اور نیز وہ کتابیں ایران وغیرہ میں بھی کام دے سکیں۔جہاں فارسی بولی اور کبھی جاتی ہے۔پنجابی زبان کو کوئی علمی زبان نہیں تاہم یہ حضرت مسیح موعود کی مادری زبان تھی۔اسلئے اہل پنجاب کے لئے مادری زبان میں بھی آپ پر بعض الہامات ہوئے۔اردو زبان چونکہ ہماری ملکی اور مشترک زبان تھی اس لئے آپ نے اکثر کتا ہیں اسی زبان میں تالیف فرمائیں۔زبانوں کا اختلاف بھی خدا کا ایک نشان ہے اور کوئی زبان اپنی ذات میں بری نہیں۔زبانیں باہمی تقابل میں ایک دوسرے پر فوقیت رکھتی ہیں۔پس برق صاحب کے یہ اعتراضات بالکل بے حقیقت ہیں۔سوال دوم الف : قرآنی آیات دوبارہ کیوں اتاریں۔کیا یہ قرآن شریف سے غائب ہو چکی تھیں۔یا اللہ کے پاس عربی الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو چکا تھا ؟ (حرف محرمانه صفحه ۳۲۳) الجواب : یہ اعتراض بھی لغو ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود کی آنحضرت مے سے روحانی مناسبت ثابت کرنے کے لئے آپ پر بعض قرآنی آیات کا دوبارہ نزول ہوا ہے۔حضرت مرزا صاحب سے پہلے بھی بعض اولیاء اللہ پر آیات قرآنیہ نازل ہوتی رہی ہیں۔