تحقیقِ عارفانہ — Page 485
۴۸۵ پہلی بناوٹ برق صاحب کی پہلی بناوٹ یہ ہے کہ حوالہ اول اور دوم کے درمیان بریکٹوں میں ۱۹۰۸ء اور ۱۹۰۹ء کے الفاظ انہوں نے اپنی طرف سے بڑھا دئیے ہیں۔حالانکہ یہ حوالے تاریخی لحاظ سے ۱۹۰۸ء اور ۱۹۰۹ء سے متعلق نہیں۔دوسری بناوٹ برق صاحب کی دوسری پیلوٹ یہ ہے کہ وہ تمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۹ کا حوالہ پیش کرنے کے بعد دونوں حوالوں کے متعلق لکھتے ہیں۔آپ ( حضرت مسیح موعود ناقل ) اسی کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں۔“ حالانکہ دونوں اقتباس تتمہ حقیقۃ الوحی کے نہیں کہ آگے چل کر لکھنا صحیح ہو۔مگر برق صاحب نے پڑھنے والوں کو دھوکا دینے کے لئے دونوں عبارتوں میں سے پہلی عبارت کے بعد تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۹ اور دوسری عبارت کے بعد تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۰۰ کا حوالہ دے دیا ہے۔تتمہ حقیقۃ الوحی چونکہ عشاء میں لکھا جا رہا تھا اس لئے ان دونوں اقتباسوں کو تمہ حقیقۃ الوحی کے اقتباس سمجھنے کے بعد پڑھنے والا برق صاحب کے کہنے کے مطابق پہلی عبارت میں بیمار جب دوبارہ آئے گی۔کا تعلق ۱۹۰۸ء سے اور دوسرے اقتباس میں "بیمار جب بار سوم آئے گی اسکا تعلق 1909ء سے سمجھے گا۔حالانکہ یہ سراسر مغالطہ ہے۔کیونکہ یہ ہر دو اقتباس تخمہ حقیقۃ الوحی میں موجود نہیں۔بلکہ یہ اصل کتاب حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۹ اور صفحہ ۱۰۰ کے ہیں۔گویا تمہ حقیقۃ الوحی کے لکھا جانے سے بہت پہلے کے ہیں۔اس مقام پر حضرت مسیح موعود نے اپنے الہامات کی ایک فہرست دی ہے جو حقیقۃ الوحی کے صفحہ ۷۰ سے شروع ہو کر صفحہ ۱۹۰۸ پر ختم ہوتی ہے۔اس فہرست میں مختلف اوقات کے الہامات کو اکٹھا درج کر دیا گیا ہے۔اس