تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 484 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 484

۴۸۴ برق صاحب کی بناوٹ اس پیشگوئی کے متعلق جناب برق صاحب نے ایک پہلوٹ سے بھی کام لیا ہے۔چنانچہ پہلے وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کون سا موسم بیمار ؟ اور اس کے نیچے لکھتے ہیں۔"حقیقۃ الوحی کا تختہ جس سے یہ اقتہاس لیا گیا ہے 1906ء کے اوائل میں لکھا جا رہا تھا۔بظاہر موسم بہار سے عشاء ہی کا موسم ہو سکتا ہے۔لیکن نہیں آپ اس کتاب میں آگے چل کر لکھتے ہیں۔( یہ برق صاحب کی صریح غلط بیانی ہے کہ الظاہر حناء کا موسم بہار تھا جیسے کہ آگے ظاہر ہو گا۔مجیب) ”بہار دوبارہ (یعنی ۱۹۰۸ء میں ) آئے گی تو ایک اور زلزلہ آئے گا۔(۱۹۰۸ء لکھنا برق صاحب کی بناوٹ ہے۔مجیب اور چند سطور کے بعد فرماتے ہیں۔بھر بہار جب بار سوم ( یعنی ۱۹۰۹ ء میں ) آئے گی تو اس وقت اطمینان کے دن آجائیں گے۔اور اس وقت تک خدا کئی نشان ظاہر کرے گا۔" (1909ء لکھنا بھی برق صاحب کی جعلسازی ہے) یہ غلط سنہ لکھ کر آخر میں برقی صاحب نے یہ سوال اٹھایا ہے۔اور وہ معمہ تو بدستور حل طلب رہا کہ جس الہام کا تعلق تیسری بیمار (1909ء میں) سے تھاوہ پہلی بیمار میں کیسے پورا ہو گیا ؟“ (حرف محرمانہ صفحہ ۳۱۵) الجواب جناب برقی صاحب! ایسا کوئی حل طلب معمہ پیدا نہیں ہوتا۔بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان اقتباسات کے پیش کرنے میں آپ نے سراسر منشائے متکلم او تاریخی حقیقت کے بر خلاف حوالہ جات کے پیش کرنے میں خود پیلوٹ سے کام ! ہے۔