تحقیقِ عارفانہ — Page 483
۴۸۳ پورے کر دیئے۔یہ نشان اس طرح متواتر ظہور میں آئے کہ نہ صرف پنجاب بلکہ یورپ اور امریکہ پر بھی حجت قائم ہو گئی۔یعنی ڈوئی کی موت سے۔۔۔۔پس یہ ایک نشان تھا جس نے تمام یورپ اور امریکہ پر اور سعد اللہ کی موت نے ہندوستان پر حجت قائم کر دی ہے۔پس ان دونوں نشانوں اور دوسرے کئی نشانوں نے دنیا پر صلح کی پیشگوئی کا پورا ہونا ثابت کر دیا ہے اور پھر یہی نہیں اصل الفاظ میں بھی یہ پیشگوئی کھلے طور پر پوری ہو گئی۔یعنی اس بیمار کے موسم میں جیسا کہ لکھا گیا تھا کہ بہار کے موسم میں ایسا ہو گا۔ایسی سخت سردی اور بارش اور ژالہ باری ہوئی کہ دنیا چیخ اٹھی۔" (بدر ۲۵ / اپریل ۱۹۰۷ء صفحه (۶) جناب برق صاحب اس نشان سے فائدہ اٹھانے کی جائے کشمیر والے خط کی بنا پر یہ لکھتے ہیں۔(حرف محرمانه صفحه ۳۱۴) یہ خط کشمیر سے چار پانچ روز پہلے یعنی ۲۰ فروری کو چلا ہو گا کیا ۲۰؎ فروری کو ا عین بہار کا موسم ہو تا ہے اور باغ پھولوں اور شگوفوں سے پھر جاتے ہیں ؟“ الجواب یہ نتیجہ ہے خوبیوں کی طرف سے آنکھیں پید کرنے اور معاندانہ نکتہ چینی کا کہ پیشگوئی کے پورا ہونے سے تو آپ نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔اور یہ اعتراض کر دیا ہے کہ گویا میں فروری کو بیمار کا موسم نہیں ہوتا اور باغ پھولوں اور شگوفوں سے نہیں بھر جاتے۔حالانکہ فروری کے آخر میں فی الواقعہ بہار کا موسم شروع ہو جاتا ہے۔اور اگر جنوری میں سردی کم پڑی ہو تو فروری کے آخر میں کئی درختوں پر پھول اور شگوفے نکل آتے ہیں۔آج جب کہ ہم یہ مضمون لکھ رہے ہیں ۲۳ فروری ۱۹۶۴ء ہے اور باغوں میں کئی درختوں پر پھول کھلے ہوئے ہیں۔