تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 482 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 482

۴۸۲ ۵ الهام در مئی ۱۹۰۱ء " پھر بہار آئی تو آئے صبح کے آنے کے دن۔“ صحیح کا لفظ عربی ہے اس کے ایک تو یہ معنے ہیں کہ وہ برف جو آسمان سے پڑتی ہے اور شدید سردی کا موجب ہو جاتی ہے۔اور بارش کے لوازم سے ہوتی ہے اس کو عربی میں نیج کہتے ہیں۔ان معنوں کی بنا پر اس پیشگوئی کے یہ معنے معلوم ہوتے ہیں کہ بہار کے دنوں میں آسمان سے ہمارے ملک میں خدا تعالی غیر معمولی طور پر یہ آفتیں نازل کرے گا۔اور برف اور اسکے لوازم سے شدت سردی اور کثرت بارش ظہور میں آئے گی اور دوسرے معنے اس کے عربی میں اطمینان قلب حاصل کرنا یعنی انسان کو کسی امر پر ایسے دلائل اور شواہد میسر آجائیں جس سے اس کا دل مطمئن ہو جائے غرض یہ پیشگوئی ان پہلوؤں پر مشتمل ہے۔۔۔اس الہام پر زیادہ غور کرنے سے یہ بھی قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ بہار کے دنوں تک نہ صرف ایک نشان بلکہ کئی نشان ظاہر ہو جائیں گے۔اور جب بہار کا موسم آئے گا تو اس قدر تواتر نشانوں کی وجہ سے دلوں پر اثر ہو گا کہ مخالفین کے منہ بند ہو جائیں گے اور حق کے طالبوں کے دل پوری تسلی پائیں گے اور یہ بیان اس بنا پر ہے کہ جب مجج کے معنے تسلی پانا اور شکوک اور شبہات سے رہائی ہو جانا سمجھے جائیں۔لیکن اگر برف اور بارش کے معنی ہوئے تو خدا تعالی کوئی اور سماوی آفات نازل کرے گا۔“ بدر ۱۰ مئی ۱۹۰۶ء صفحه ۲د تخمه حقیقت الوحی صفحه ۳۹،۳۸) جب یہ پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہو گئی تو حضرت اقدس نے فرمایا۔”دیکھو ” نلج کے آنے کے دن“ والی پیشگوئی کس طرح پوری ہو گئی اور میں نے اس کے دو پہلو لئے تھے۔ایک تو یہ کہ خدا کچھ ایسے نشان دکھائے جن کی وجہ سے لوگوں پر حجت قائم ہو جائے اور دل تسکین پکڑ جائے۔دوسرا یہ کہ سخت بارش اور سر دی اور ژالہ باری ہو جو زمانہ دراز سے کبھی نہ ہوئی ہو۔تو خدا تعالیٰ نے یہ دونوں پہلو