تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 468 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 468

۴۶۸ شریر مخالفوں کے لئے بد دعا کرنا ثابت ہے۔چنانچہ حضرت نوع کی یہ دعا قرآن مجید میں مذکور ہے جو انہوں نے قوم کے تمر دوسرکشی میں کمال پر پہنچ جانے کے بعد ان الفاظ میں کی تھی۔رَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الارْضِ مِنَ الكَافِرِينَ دَيَّارًا ( سورۃ نوح : ۲۷) جس کا مفهوم مفسرین یہ بیان کرتے ہیں کہ نوٹ نے بد دعا کی کہ تمام کا فر روئے زمین پر ہلاک ہو جائیں اور پھر خدا بھی جو ارحم الراحمین ہے گویا ماں باپ سے بھی بڑھ کر رحم کر نیوالا ہے غضب میں آگیا اور اُس نے تمام کا فروں کو غرق کر دیا۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور قوم فرعون کے معاملہ میں یہ بد دعا کی رَبَّنَا اطْمِسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا العَذَابَ الْأَلِيمِ (یونس : ۸۹) اے خدا! ان کے مالوں کو مٹادے اور ان کے دلوں پر سختی کر کہ یہ درد ناک عذاب دیکھے بغیر ایمان نہ لائیں۔پھر سید الانبیاء فخر المرسلمین رحمۃ للعالمین ہے کے متعلق صحیح احادیث میں مروی ہے کہ آپ ایک عرصہ تک اپنے متمرد دشمنوں اور قبائل کا نام لے لے کر نماز میں اُن کے لئے بد دعا کرتے رہے چنانچہ وہ سب آپکی بد دعا سے تباہ ہوئے۔خدا تعالیٰ کے سوار حمتہ للعالمین ﷺ سے بڑھ کر اور کون رؤف در حیم تھا۔مگر ایک موقعہ پر آپ کو بھی بد دعا کرنی ہی پڑی۔سچ پوچھو تو جو لوگ ایمان لانیوالے نہ ہوں ان کی ہلاکت بھی اُن کے لئے اپنے اندر ایک رحم کا پہلو ہی رکھتی ہے جس سے اُن کے متمردانہ اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔اور آئندہ ہو سکنے والے جرموں کی سزا سے وہ بچ جاتے ہیں۔آخر والدہ بھی تو بچے کی شرارت پر اسے چپت رسید کرہی دیتی ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے۔ایک عورت نے آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کیا خدا ارحم الراحمین نہیں ؟ آپ نے فرمایا۔ہاں وہ ارحم الرحمین ہے۔تو اس عورت نے کہا۔کیا خداوالدہ سے بڑھ کر رحم کرنے والا نہیں ؟ آپ نے فرمایا۔ہاں وہ والدہ سے بڑھ