تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 465 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 465

۴۶۵ غَضِبَتْ غَضَباً شَدِيداً الاِمْرَاضَ تُشَاعُ وَ النُّفُوسُ تُضَاعُ إِلَّا الَّذِينَ 66 امَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بظلم أُولئِكَ لَهُمُ الأَمنُ وَ هُمْ مُهْتَدُونَ " وافع البلاء صفحہ ۶) ترجمہ :- میر اغضب بھڑک رہا ہے۔ماریاں پھیلیں گی اور جانیں ضائع ہوں گی مگر وہ لوگ جو ایمان لائیں گے اور ان کے ایمان میں کچھ نقص نہیں ہو گا وہ امن میں رہیں گے اور ان کو مخلصی کی راہ ملے گی۔( دافع البلاء صفحہ ۷ ، ۸) اس سے ظاہر ہے کہ جن کے ایمان میں کچھ نقص ہو الہام الہی میں ان کی حفاظت کا وعدہ نہ تھا۔پھر حضور فرماتے ہیں۔بعض لوگ ہماری جماعت میں سے بھی غلطی سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی نہ مریگا۔یہ ان کو مغالطہ لگا ہے۔ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا۔اگر چہ ایک حد تک خدا نے وعدے کئے ہوئے ہیں مگر ان کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ جماعت سے مطلقاً کوئی بھی نشانہ ء طاعون نہ ہو۔یہ بات ہماری جماعت کو خوب یادر کھنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہر گز نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی نہ مرے گا۔ہاں خدا تعالی فرماتا ہے۔و آما مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمُكُتُ فِي الْأَرْضِ - پس جو شخص اپنے وجود کو نافع الناس، بنادینگے ان کی عمر میں خدا زیادہ کرے گا۔خدا تعالیٰ کی مخلوق پر شفقت بہت کرو اور حقوق العباد کی جا آوری پورے طور پر بجالانی چاہیئے۔“ البدر ۲۲ مئی ۱۹۰۳ء صفحه ۳۸ از سر ملفوظات ۹ / مئی) پس جماعت کے تمام افراد کے طاعون سے محفوظ رہنے کی کوئی پیشگوئی نہ تھی بلکہ ایسا وعدہ جماعت کے افراد میں سے الہامی الفاظ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ لَهُمُ الاَمُنُ وَ أُولئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ کے مطابق صرف ان افراد