تحقیقِ عارفانہ — Page 464
۴۶۴ - آپ خود تسلیم فرماتے ہیں کہ آپ کے پیرو بھی طاعون کا شکار ہوئے۔(صفحہ ۳۰۲) ہماری جماعت میں سے بعض لوگوں کا طاعون سے فوت ہو جانا بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ آنحضرت ا کے بعض صحابہ لڑائی میں شہید ہوئے۔(تتمہ حقیقة الوحی صفحه ۱۳۱) تتمه حقیقة الوحی صفحه ۱۳۱) اگر ایک آدمی ہماری جماعت میں مرتا ہے تو جائے اس کے سویا زیادہ آدمی ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے۔“ میں نے جناب برق صاحب کا اعتراض من و عن نقل کر دیا ہے مگر اصل سوال اس جگہ یہ ہے کہ حضرت اقدس نے کیا یہ لکھا تھا کہ میری جماعت کا کوئی فرد بھی لماعون سے ہلاک نہیں ہو گا ؟ اگر کوئی ایسی عبارت ہوتی تو اسے جناب برق صاحب پہلے پیش فرماتے اور پھر اعتراض کرتے تو ایک بات تھی۔اب تو یہ اعتراض بالکل بے ہنگم ہے۔ہم دعوی سے کہتے ہیں کہ حضرت اقدس نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ میری یہ پیشگوئی ہے کہ میری جماعت میں سے کوئی فرد طاعون سے ہلاک نہیں ہو گا۔ماسٹر محمد دین صاحب کے متعلق یہ لکھنا کہ وہ حضرت اقدس کے گھر میں رہتے تھے درست نہیں میں بتا آیا ہوں کہ وہ اور ڈنگ ہاؤس میں رہتے تھے۔انہیں بے شک گلٹی نکلی مگر حضرت اقدس کی دعا اور توجہ سے وہ خدا کے فضل سے بچ گئے۔اور اللہ تعالیٰ نے انہیں خدمت سلسلہ کی توفیق دے رکھی ہے آج کل وہ صدرانجمن احمدیہ میں ناظر تعلیم کے عہدہ پر مامور ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت اقدس نے کوئی ایسی پیشگوئی کی ہی نہیں تھی۔کہ میری جماعت کا ہر فرد طاعون سے محفوظ رہے گا۔البتہ مخالفوں نے ایسا مشہور ضرور کر دیا تھا کہ آپ نے ایسی پیشگوئی کی ہے۔اس افواہ سے بعض احمدی بھی متاثر تھے۔چنانچہ حضرت اقدس طاعون کے متعلق الہامات کے سلسلہ میں ایک الہام یوں درج فرماتے