تحقیقِ عارفانہ — Page 463
۴۶۳ کی طرف اشارہ ہے اور اگر چہ میں جانتا تھا کہ موت فوت قدیم سے ایک قانون قدرت ہے۔لیکن یہ خیال آیا کہ اگر خدانخواستہ ہمارے گھر میں کوئی طاعون سے مر گیا تو ہماری تکذیب میں ایک شور قیامت برپا ہو جائے گا۔اور پھر گو میں ہزار نشان بھی پیش کروں تب بھی اس اعتراض کے مقابل پر کچھ بھی ان کا اثر نہیں ہوگا۔کیونکہ میں صدہا مرتبہ لکھ چکا ہوں اور شائع کر چکا ہوں اور ہزار ہا لوگوں میں بیان کر چکا ہوں کہ ہمارے گھر کے تمام لوگ طاعون کی موت سے بچے رہیں گے غرض اس وقت جو کچھ میرے دل کی حالت تھی میں بیان نہیں کر سکتا۔میں فی الفور دعا میں مشغول ہو گیا۔اور بعد دعا کے عجیب نظارہ قدرت دیکھا کہ دو تین گھنٹہ میں خارق عادت کے طور پر اسحاق کاپ اتر گیا اور گلٹیوں کا نام و نشان نہ رہا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔اور نہ صرف اسقدر بلکہ پھر نا ، چلنا، کھیلنا دوڑنا شروع کر دیا گویا کبھی کوئی بیماری نہیں ہوئی تھی۔یہی ہے احیائے موتی۔میں حلفاً کہتا ہوں کہ حضرت عیسی کے احیائے موتی میں اس سے ایک ذرہ کچھ زیادہ نہ تھا۔اب لوگ جو چاہیں ان کے معجزات پر حاشیے چڑھائیں مگر حقیقت یہی تھی۔جو شخص حقیقی طور پر مر جاتا ہے اور اس دنیا سے گذر جاتا ہے اور ملک الموت اس کی روح کو قبض کر لیتا ہے وہ ہر گز واپس نہیں آتا۔دیکھو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتِ “ (حقیقۃ الوحی صفحه ۳۲۹) ایک اور اعتراض آپ لکھتے ہیں۔جناب برق صاحب کا آخری قابل جواب اعتراض اس سلسلہ میں یہ ہے کہ کیا آپ کے پیرو محفوظ رہے ؟ نہیں! ا۔ماسٹر محمد دین (گھر میں جور رہتا تھا تو پیر وہی ہو گا) کو گلٹی نکلی۔(حرف محرمانه صفحه ۳۰۱)