تحقیقِ عارفانہ — Page 460
ممتاز ہیں جناب برق صاحب کا یہ اقتباس پیش کر کے حقیقت معلوم کرنا چاہی۔انہوں نے حلفاً جو تحریری جواب دیا ہے وہ درج ذیل ہے۔مگر می مخدومی قاضی صاحب سلمکم اللہ تعالٰی" السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔" حرف محرمانہ کا وہ حصہ میری نظر سے گذرا جسمیں حضرت مسیح موعود کی تحریر کا وہ ٹکڑا دیا گیا ہے جس میں حضور نے حضرت نواب محمد علی خان مرحوم کو اطلاع دی که ماسٹر محمد دین کو گلٹیاں نکل آئی ہیں اور ساتھ ہی خار بھی ہے اس لئے بطور احتیاط کے اس کو نکال دیا ہے۔یہ واقعہ یہاں تک اور اسقدر صحیح ہے کہ خاکسار کو اپنی رہائش گاہ سے نکال کر باہر کھلی ہوا میں چھولداریاں لگا کر ان میں رکھا گیا اور چار احباب کو میری تیمارداری اور خبر گیری کے لیے ساتھ کے خیمہ جات میں متمکن کر دیا گیا تھا کہ حضور کو وقتا فوقتا میری حالت کے متعلق اطلاع دیتے رہیں۔حضور نے کمال مہربانی سے میرے لئے خود ہی دوائی بھی تجویز فرمائی اور خود ہی اپنے دست مبارک سے دوائی ہوا کر بھجواتے رہے اور ہر نماز میں میرے متعلق پتہ لیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اپنے فضل سے اور حضور کی دعاؤں اور دواؤں سے کامل شفا شی۔مگر مصنف صاحب حرف محرمانہ کا یہ خیال کہ خاکسار " الدار میں مقیم تھا اس لئے حضور کی پیشگوئی اتنی احافظ كل من في الدار غلط نكل بالكل واقعات کے خلاف ہے۔خاکسار اسٹنٹ پر نٹنڈنٹ پور ڈنگ ہاؤس میں تھا اور بورڈنگ ہاؤس میں ہی رہتا تھا۔یہ یور ڈنگ ہاؤس حضور کے ”الدار “ سے بہت دور ڈھاب کے کنارے پر واقع تھا۔وہیں خاکسار بیمار ہوا اور وہیں سے بورڈروں سے الگ کیا گیا۔تاکہ متعدی مرض کسی صورت میں چھوٹے چوں پر اثر انداز نہ ہو۔آپ خود برق صاحب کے دیئے ہوئے الفاظ سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس میں حضور نے کہیں نہیں لکھا کہ خاکسار الدار “یا الدار کے کسی حصہ