تحقیقِ عارفانہ — Page 461
۴۶۱ ئیں یا اس کے قرب میں مقیم تھا۔بورڈنگ ہاؤس خاصے فاصلہ پر واقع تھا۔ویسے بھی حضور نے خود تحریر فرمایا ہے کہ قادیان میں اکے دئے کیس ہو رہے تھے۔سوال الدار “ اور اس کے مکینوں کے متعلق تھا اور یہ شرف اگر خاکسار کو حاصل ہو تا تو ز ہے قسمت مگر امر واقعہ یہ نہ تھا جس طرح سینکڑوں اور احمدی خدام اپنی اپنی جگہوں میں رہتے تھے۔خاکسار بھی ہوسٹل میں رہتا تھا اور بس۔خاکسار محمد دین ربوہ۔۶۳-۵-۸ نوٹ :- میری تیمار داری اور نگرانی کے لئے حضور نے بھائی عبدالرحیم صاحب مرحوم سپر نٹنڈنٹ ہوسٹل۔ڈاکٹر شیخ عبد اللہ صاحب مرحوم معالج ہوسٹل۔چوہدری فتح محمد صاحب مرحوم اور صوفی غلام محمد صاحب مبلغ ماریشس جو اسوقت پورڈر تھے اور ڈاکٹر گوہر دین صاحب جو اس وقت بقید حیات موجود ہیں وہ بھی اور ڈر تھے۔نیز جناب کی اطلاع کے لئے عرض کرتا ہوں کہ خاکسار اسوقت اپنی عمر کے بیاسیویں (۸۲) سال میں گذر رہا ہے۔اور یہ میرابیان اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر عرض ہے کہ بلا کم و کاست صحیح ہے۔“محمد دین جناب مولوی محمد دین صاحب کے اس بیان سے جناب برق صاحب کی یہ غلط فہمی دور ہو جانی چاہیے کہ ماسٹر محمد دین صاحب دارا صیح میں رہتے تھے اور وہاں وہ طاعون میں مبتلا ہوئے اور وہاں سے باہر نکال دیئے گئے۔الحمد لله ثم الحمد لله۔جناب مولوی محمد دین صاحب کو خدا تعالیٰ نے ۱۹۰۴ء کے اس واقعہ کے بعد اس وقت ۸۲ ۵۹ سال تک بقید حیات رکھا اور اسوقت آپ اپنی عمر کے بیاسی میں سال میں ہیں اور حضرت اقدس کی دعاؤں سے نہ صرف انہیں شفا ہوئی بلکہ اس وقت سے خدا تعالیٰ نے آپ کو خدمت سلسلہ کی توفیق دے رکھی ہے۔۳ سال تک آپ امریکہ میں مبلغ اسلام بھی رہ چکے ہیں اور اب مرکز سلسلہ رہوہ میں ناظر تعلیم کے عمدہ : ممتاز ہیں۔پس ہم دیکھیں گے کہ جناب برق صاحب ان کے جواب کے بعد کس حد تک اس جھوٹ کا