تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 458 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 458

۴۵۸ طاعون تیرے نزدیک نہیں آئے گی۔بلکہ یہ بھی مجھے فرمایا کہ میں لوگوں کو یہ کہوں کہ آگ سے ( یعنی طاعون سے) ہمیں مت ڈراؤ۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔اور نیز مجھے فرمایا کہ میں اس تیرے گھر کی حفاظت کروں گا اور ہر ایک جو اس چار دیوار کے اندر ہے طاعون سے بچا رہے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اس نواح میں سب کو معلوم ہے کہ طاعون کے حملہ سے گاؤں کے گاؤں ہلاک ہو گئے اور ہمارے ارد گرد قیامت کا نمونہ رہا مگر خدا نے ہمیں محفوظ رکھا۔“ 66 معلوم ہوتا ہے کہ برق صاحب کے مد نظر آخری فقرہ تھا جس کی طرف وہ توجہ دلانا چاہتے تھے کہ قادیان میں طاعون کا شدید ترین زور تھا جو نمونہ قیامت تھا مگر ”ہمارے ارد گرد کے الفاظ سے مراد جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے اردگرد کے گاؤں تھے نہ کہ خود قادیان کو قادیان میں بھی ایک دفعہ طاعون نے کچھ شدت اختیار کی جو منشاء الہام کے خلاف نہ تھی اگر منشاء الهام قادیان میں طاعون نہ پرنے کا ہوتا تو پھر انبی أحافظ كُلَّ مَنْ فِی الدَّار سے خصوصیت کے ساتھ دار صحیح کے محفوظ رہنے کے وعدہ کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔پس دار مسیح کے متعلق حفاظت کا وعدہ اور قادیان کے متعلق إِنَّهُ أوَى القربة کا وعدہ خود ایک امتیازی فرق کی طرف اشارہ کر رہا ہے چنانچہ العام إنَّهُ أوَى القربة کی تشریح میں حضور نے فرما دیا ہے کہ قادیان میں صرف جارف قسم کی طاعون نہیں آئے گی نہ یہ کہ بالکل طاعون نہیں آئے گی۔دار مسیح کے متعلق حفاظت کی پیشگوئی کو جھٹلانے کی کوشش جناب برق صاحب نے اِنِّى أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ کے الہام کو بھی جھٹلانے کی ناپاک کوشش کی ہے۔واضح رہے کہ اس الہام کا منشاء یہ تھا کہ دار مسیح کے اندر کوئی موت طاعون سے نہیں ہو گی۔نہ یہ کہ باہر سے کوئی شخص اثر لے کر طاعون