تحقیقِ عارفانہ — Page 456
۴۵۶ وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑا ہو گیا اور معا کھڑا ہونے کے ساتھ ہی مجھے وہ حالت میسر آگئی جو استجابت دعا کیلئے کھلی کھلی نشانی ہے اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ابھی میں شائد تین رکعت پڑھ چکا تھا کہ میرے پر کشفی حالت طاری ہو گئی اور میں نے کشفی نظر سے دیکھا کہ لڑکا بالکل تندرست ہے۔تب وہ کشفی حالت جاتی رہی اور میں نے دیکھا کہ لڑکا ہوش کے ساتھ چارپائی پر بیٹھا ہے اور پانی مانگتا ہے۔اور میں چار رکعت پوری کر چکا تھا۔فی الفور اس کو پانی دیا اور بدن پر ہاتھ لگا کر دیکھا کہ آپ کا نام و نشان نہیں اور ہذیان اور بے تالی اور بے ہوشی بالکل دور ہو چکی تھی اور لڑکے کی حالت بالکل تندرستی کی تھی مجھے اس خدا کی قدرت کے نظارہ نے الہی طاقتوں اور دعا قبول ہونے پر ایک تازہ نشان بخشا۔“ (حقیقۃ الوحی صفحه ۸۵،۸۴) اس عبارت میں جو یہ لفظ ہیں ”جب قادیان میں طاعون زور پر تھا“ کے یہ معنی ہیں کہ نسبتی طور پر پہلے سے زور تھا۔ورنہ یہ نہیں کہ قادیان میں جارف قسم کی طاعون پھیل گئی تھی جس سے خدا نے قادیان کے لئے حفاظت کا وعدہ فرمایا تھا۔پس قادیان میں طاعون کی وارداتوں کا ہونا ہر گز منشاء پیشگوئی کے خلاف نہیں۔جناب برق صاحب نے قادیان کی آبادی کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ۲۸ سو نفوس پر مشتمل تھی اور صرف مارچ اور اپریل ۱۹۰۴ء میں تین سو تیرہ اموات درج ہو ئیں جو قادیان میں طاعون سے واقع ہو گئی تھیں۔یہ بات آپ نے اخبار اہلحدیث امر تسر مؤرخہ ۲۷ مئی ۱۹۰۴ء کے حوالہ سے لکھی ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ لوگ گھبراکر گاؤں چھوڑ گئے تھے اور تمام قصبہ سنسان ہو گیا تھا۔اخبار اہلحدیث امر تسر احمدیت کا ایک معاند اخبار تھا اس لئے ہم اس کی رپورٹ کو صحیح تصور نہیں کر سکتے۔اگر بالفرض صحیح بھی ہو تو پھر خدا کی ۸۰ قدرت کا یہ نشان دیکھیں کہ اس بستی میں دار مسیح کے اندر اس زمانہ میں آئی کے قریب نفوس رہتے تھے اور خدا تعالیٰ نے الہام إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ کے