تحقیقِ عارفانہ — Page 451
۴۵۱ دیکھو تین برس سے ثابت ہو رہا ہے کہ یہ دونوں پہلو پورے ہو گئے۔یعنی ایک طرف تمام پنجاب میں طاعون پھیل گئی اور دوسری طرف باوجود اس کے کہ قادیان کے چاروں طرف دو دو میل کے فاصلہ پر طاعون کا زور ہو رہا ہے۔قادیان طاعون سے پاک ہے۔بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ قادیان میں آیاوہ بھی اچھا ہو گیا۔کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور ثبوت ہو گا کہ جو باتیں آج سے چار برس پہلے کی گئی تھیں وہ پوری ہو گئیں۔بلکہ طاعون کی خبر آج سے بائیس برس پہلے براہین احمدیہ میں بھی دی گئی ہے اور یہ علم غیب بجز خدا کے کسی اور کی طاقت میں نہیں۔پس اس بیماری کے دفع کے لئے وہ پیغام جو خدا نے مجھے دیا ہے وہ یہی ہے کہ لوگ مجھے سچے دل سے مسیح موعود مان لیں۔( دافع البلاء صفحہ ۵) پھر الهام إِنَّهُ اوَى القَرْيَةَ کے متعلق حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں۔”ہم دعوی سے لکھتے ہیں کہ قادیان میں کبھی طاعون جارف نہیں پڑے گی۔جو گاؤں کو ویران کرنے والی اور کھا جانے والی ہوتی ہے۔مگر اس کے مقابل پر دوسرے شہروں اور دیہات میں جو ظالم اور مفسد ہیں ضرور ہولناک صورتیں پیدا ہوں گی۔تمام دنیا میں ایک قادیان ہے جس کے لئے یہ وعدہ ہوا " فالحمد لله على ذالك ( دافع البلاء حاشیہ صفحہ ۵) اس سے ظاہر ہے کہ اولیٰ کا لفظ الہام میں اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قادیان میں بھی طاعون کی وارداتیں ہو سکتی ہیں۔البتہ قادیان کے جارف قسم کی طاعون سے جو نہایت بربادی بخش ہوتی ہے محفوظ رہنے کی پیشگوئی کی گئی چنانچہ قادیان میں بربادی بخش طاعون سے دوسرے شہروں اور دیہات کے بالمقابل امن رہا۔بے شک حضرت اقدس نے اس بلاء کے دفع ہونے کی ایک صورت آپ پر ایمان لانا بیان فرمائی ہے مگر اس کے علاوہ اس کے دفع ہونے کی ایک اور صورت بھی بیان فرماتے ہیں۔