تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 438 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 438

۴۳۸ کو ہے کہ ان دونوں باتوں میں سے کونسی بات اس کے ارادہ کے موافق ہے۔تریاق القلوب صفحه ۴۰) اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ صاحبزادہ مبارک احمد کی وفات سے دو پیشگوئیاں پوری ہوئیں۔ایک ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کی پیشگوئی کہ : اور دوسری پیشگوئی ،، بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے۔“ 66 "إِنِّي أَسْقُطُ مِنَ اللَّهِ أُصيبه " اور کم عمری میں اس کی وفات نے ظاہر کر دیا ہے کہ اس الہام کے متعلق آپ کا دوسرا اجتہاد ہی جو ان کے جلد فوت ہو جانے کے متعلق تھا خدا کے ارادہ کے موافق تھا۔پس جب صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کے لمبی عمر پانے کا الہامات میں کوئی ذکر ہی موجود نہیں تھا۔بلکہ اس بارہ میں الہام الہی سے آپ نے یہ اجتہاد بھی فرمایا تھا کہ وہ جلد فوت ہو جائے گا تو آپ اُسے مصلح موعود قرار نہیں دے سکتے تھے۔کیونکہ مصلح موعود کے لئے لمبی عمر پانا ضروری ہے۔اور صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کے جلد وفات پا جانے کا احتمال تھا۔اس لئے آپ نے تریاق القلوب میں جہاں اس کے حق میں چوتھے لڑکے کی پیشگوئی کے پورے ہونے کا ذکر کیا ہے جس کا نام ۱۸۸۳ء کے الہام میں ہی مبارک بتایا گیا تھا وہاں اسے ہر گز مصلح موعود قرار نہیں دیا۔جناب برق صاحب حضرت اقدس کی کوئی عبارت پیش نہیں کر سکتے۔جس میں آپ نے اسے خاص پر موعود لمبی عمر پانیوالا قرار دیا ہو۔ہاں یہ درست ہے کہ اشتہار ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء۔وو کے بعض ذو الوجوہ فقرات کو آپ نے اُس پر بھی چسپاں کیا ہے۔مثلا یہ فقرہ کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا " یا " دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ “