تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 422 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 422

۴۲۲ حضرت مرزا صاحب میں سے سچے خدا کو ماننے والا ہے اور اس وعیدی موت سے نہیں مریگا۔پس جھوٹے کا بچے کے سامنے وعیدی موت سے مرنا بھی اس پیشگوئی کا مفاد ہوا۔ہاں اس وقت جھوٹے کا پہلے مرنا اس شرط سے مشروط تھا کہ وہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔چونکہ مسٹر عبد اللہ آتھم رجوع الی الحق کی وجہ سے وعیدی موت سے بیچ گئے۔اور پندرہ ماہ میعاد ختم ہو گئی۔لہذا اب اگر مسٹر عبد اللہ آتھم اخفائے حق سے کام لیں تو پندرہ ماہ کی میعاد ختم ہو جانے کے بعد اب اصل پیشگوئی آتھم صاحب کے اخفائے حق کی وجہ سے تاخیر میں پڑ کر اس کا مفاد یہی رہ جاتا تھا کہ جھوٹے کو بچے کے سامنے مرنا چاہئے۔چنانچہ آخری پیشگوئی میں خدا تعالیٰ نے فرمایا :- میں بس نہیں کروں گا جب تک قومی ہاتھ نہ دکھلاؤں اور شکست خوردہ گروہ کی سب پر ذلت ظاہر نہ کروں۔“ اور اس الہام کا مفاد حضرت اقدس نے یہ بتایا تھا کہ :- اگر آتھم صاحب قسم نہ کھائیں تو بھی خدا ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا جس نے حق کا اخفا کر کے دنیا کو دھوکہ دینا چاہا۔۔۔۔وہ دن نزدیک اشتهار انعامی چار ہزار روپیه ) ہیں دُور نہیں۔“ اب پہلی پیشگوئی کی بنا پر ہی اخفائے حق کے جرم کی وجہ سے عبداللہ آتھم کا حضرت اقدس سے پہلے مرنا ضروری ہو گیا تھا۔تا آتھم صاحب کے گروہ کی شکست اور ذلت سب پر ظاہر ہو جائے۔چنانچہ وہ اس پیشگوئی کے کے ماہ بعد ہلاک ہو گئے اور حضرت اقدس زندہ رہے۔پس پہلی پیشگوئی کا یہ مفاد ضرور تھا۔کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں مریگا البتہ اس میں پندرہ ماہ کی میعاد تھی۔جو آتھم صاحب کے رجوع الی الحق سے مل گئی تھی اور اس پیشگوئی میں سنت اللہ کے موافق تاخیر ڈال دی گئی تھی۔کیونکہ جب رجوع الی الحق