تحقیقِ عارفانہ — Page 419
۴۱۹ کی وضاحت فرمائی ہوتی۔حق کا لفظ اس قدر وسیع ہے کہ کائنات کی کروڑوں سچائیاں اس کے دامن میں سمائی ہوئی ہیں۔اتنے وسیع لفظ سے صرف ایک سچائی مراد لینا ایک ایسا تکلف ہے جسکا جو از ایک زبر دست قرینہ کے بغیر نکل ہی نہیں سکتا۔پیشگوئی میں جو فریق عمدا عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ہادیہ میں گرایا جائیگا۔“ کے الفاظ صریحاً تثلیث و توحید کا مفہوم دے رہے ہیں۔“ (حرف محرمانہ صفحہ ۲۸۱) ہے " 66 جب بقول برق صاحب پیشگوئی میں جو فریق عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہاویہ میں گرایا جائے گا“ کے الفاظ صریحاً تثلیث و توحید کا مفہوم دے رہے تو حق کا لفظ اس جگہ کروڑوں کروڑ سچائیوں کے ذکر پر مشتمل نہ ہوا۔ہلاکہ سیاق کلام کے قرینہ سے جناب برق صاحب نے خود ہی اس کے یہ معنی متعین کر دئیے ہیں کہ :- باقی رہا لفظ حق تو پیشگوئی کے الفاظ پھر پڑھئے " جو فریق عمدا جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔یعنی جھوٹ سے مراد عاجز انسان کو خدا بنا نا لور سچ کیا ہے ؟ جو شخص سچ پر ہے اور بچے خدا کو مانتا ہے۔ایک خدا کو ماننا۔اس پیشگوئی کے رو سے رجوع الی الحق کا مفہوم ایک ہی ہو سکتا ہے۔یعنی تثلیث سے تائب ہو کر توحید قبول کرنا۔“ (حرف محرمانه صفحه ۲۷۱) دیکھئے جب برق صاحب نے خود بلا تکلف عبارت الہام کے زیر دست قرینہ سے حق کے لفظ سے ایک ہی سچائی مراد لے لی ہے۔تو پھر اعتراض کیسا؟ ہاں بے شک وجال کا نہ تو یہاں ذکر ہے اور نہ کسی لفظ سے اشارہ سمجھا جاتا ہے۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بنائے پیشگوئی جیسا کہ حضرت اقدس نے بیان کیا ہے :-