تحقیقِ عارفانہ — Page 420
۴۲۰ مسٹر عبد اللہ آتھم کا نبی علی والے کو جال کہنا ہی تھا۔“ مگر آتھم صاحب کے وعیدی موت سے چنے کے لئے چونکہ الہام الہی کی رُو سے تثلیث کو چھوڑ کر توحید کو مانا ضروری تھا۔اس لئے محض دجال کہنے سے رجوع پر اس وقت پیشگوئی کے انجام کے متعلق قطعی اجتہاد نہیں ہو سکتا تھا۔ہاں اس کا دجال کہنے سے رجوع کر لیا احد کے ان واقعات کے ساتھ مل کر جو اسے ہم و خم کی صورت میں پیش آئے اس بات کی دلیل ہے کہ واقعی وہ دل میں تثلیث کے عقیدہ کو چھوڑ کر توحید کو اختیار کر چکا تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے حضرت اقدس کو اطلَعَ اللهُ عَلَى هَمه ومہ کے الہام کے ذریعہ آتھم صاحب کو مہلت دی جانے سے متعلق اشارہ فرما دیا۔اور پھر الہام کے ماتحت جو انعامی دعوت مباہلہ آتھم صاحب کو دی گئی اس سے آٹھم صاحب کے رویہ نے قطعی طور پر ثابت کر دیا کہ پندرہ ماہ کے اندر رجوع الی الحق کی وجہ سے ہی وہ وعید کی موت سے چے تھے۔ورنہ اگر مسٹر عبداللہ آتھم صاحب نے دل سے رجوع نہ کیا ہوتا تو وہ فورا مؤکد بعذاب حلف اٹھا کر حضرت اقدس کے بیان کو بھی جھٹلا سکتے تھے۔اور چار ہزار روپیہ انعام بھی حاصل کر سکتے تھے۔مگر چونکہ وہ قسم کھانے کے لئے باوجود انعامی وعدوں کے آمادہ نہ ہوئے۔اور عذر کیا کہ میرے مذہب میں قسم کھانا منع ہے۔حالانکہ حضرت اقدس نے بعد میں دلائل سے ثابت کر دیا کہ ضرورت کے وقت عیسائیوں میں قسم کھانا جائز ہے۔اس لئے اخفائے حق کے جرم سے کام لینے کی وجہ سے وہ نئے الہام کے بعد سات ماہ کے عرصہ میں ہلاک ہو کر اپنی ذلت و شکست پر مہر تصدیق ثبت کر گئے۔فاعتبر وایا اولی الابصار۔ایک اور اعتراض ایک اور ضمنی اعتراض جناب برق صاحب کا یہ ہے۔کہ حضرت اقدس نے لکھا تھا :-