تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 394 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 394

۳۹۴ دوسرا اعتراض برق صاحب کہتے ہیں :- ”نکاح کی بشارت اللہ نے دی تشہیر مسیح موعود نے کی۔اڑ بیٹھے لڑکی کے والدین اور پٹ گیا غریب فضل احمد جسے بیوی کو چھوڑنے اور محروم الارث ہونے کا نوٹس مل گیا۔کوئی پوچھے اس کا کیا قصور ؟ (حرف محرمانہ صفحہ ۲۶۰) برق صاحب کے اعتراض کا اگلا حصہ سراسر خدا تعالیٰ کی شان میں گستاخی ہے وہ لکھتے ہیں :- اگر قصور تھا تو صرف خدا تعالیٰ کا جس نے اپنی جلیوں، دباؤس اور تازیانوں سے کام نہ لیا بات کہہ ڈالی اور اُس کے منوانے کا کوئی انتظام نہ کیا۔“ (اعاذنا اللہ منہا ناقل) (حرف محرمانه صفحه ۲۶۰) الجواب بے شک نکاح کی بشارت اللہ نے دی اور یہ بھارت مشروط بو عید تھی۔کیونکہ پیشگوئی میں یہ تھا کہ اگر باپ نہیں مانے گا تو وہ تین سال بلکہ قریب مدت میں ہلاک ہو گا اور اس کے بعد وہ لڑکی بیوہ ہو کر آپ کے نکاح میں آئے گی۔پس باپ کا اڑ بیٹھنا از روئے الہام ممکن تھا۔چنانچہ وہ اڑ بیٹھا اور پیشگوئی کی میعاد کے اندر ہلاک ہو گیا۔الہام آخِرُ الْمَصَائِبِ مَوتُك جو محمدی بیگم کے والد کو لکھدیا گیا نمبر 1 : جناب برق صاحب کا یہ کہنا غلط ہے۔کیونکہ پیشگوئی کی تشہیر حضرت اقدس نے نہیں کی بلکہ خود مخالف رشتہ داروں نے کی۔اور پیشگوئی کو عیسائیوں کے اخبار چشمہ نور اگست ۱۸۸۷ء ایک خط کے ذریعہ شائع کرایا تھا۔ملاحظہ ہو ”آئینہ کمالات اسلام“ صفحه ۵۶۸۔حضرت کی طرف سے اس کی تشہیر کے آغاز کا کوئی ثبوت جناب برق صاحب نہیں دے سکتے۔