تحقیقِ عارفانہ — Page 392
۳۹۲ جناب برق صاحب کا یہ اعتراض اُن کی سنت انبیاء سے ناواقفی کا ثبوت ہے۔پیشگوئیوں کو پورا کرنے کے لئے کوشش کرنا نہ شرعا ممنوع ہے نہ اخلاقاً۔بلکہ شرعا تو ان کو پورا کرنے کی کوشش از بس ضروری ہے اور صرف خدا پر چھوڑ دینا کہ وہ پیشگوئی کو آپ پورا کرے گا تو کل نہیں بلکہ تعطل ہے۔جو سراسر نا جائز ہے اور شان مومنانہ کے خلاف اگر پیشگوئی کو پورا کرنے کی کوشش کو جناب برق صاحب قابل اعتراض سمجھتے ہیں تو شاید وہ حضرت موسیٰ کی قوم کے اس جواب کو قابل تعریف قرار دیں گے جو انہوں نے حضرت موسیٰ کو اس وقت دیا تھا۔جب انہوں نے قوم سے کہا :- يا قَوْمِ ادْخُلُوا الأَرْضِ المُقَدَّسَةَ التِي كَتَبَ اللهُ لَكُمْ (سوره مائده : ۲۲) کہ اے قوم ارض مقدسہ (کھان) میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالی نے تمہارے لئے لکھدی ہے۔“ : اس آیت سے ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کے لئے ارض مقدسہ ملنے کی پیشگوئی کی گئی تھی جو کتب الله لحم کے الفاظ سے ظاہر ہے اس پر حضرت موسیٰ نے قوم کو کوشش کی دعوت دی مگر قوم نے جواب میں کہا کہ :- فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّاهُهُنَا قَاعِدُونَ (سوره مائده : ۲۵) اے موسیٰ تو اور تیرا خدا دو نو جا کر لڑو یقینا ہم یہاں بیٹھنے والے ہیں (یعنی فتح کر لو گے تو ہم بھی داخل ہو جائیں گے)۔کیا جناب برق صاحب یہودیوں کے اس جواب کو قابل تعریف سمجھتے ہیں اور حضرت موسیٰ کی لڑائی کے لئے قوم کو تحریک کرنے کی کوشش کو قابل اعتراض ؟ اگر یہودیوں کا جواب نا جائز ہے اور پیشگوئی کو پورا کرنے کیلئے حضرت موسیٰ کی کوشش کرنے کی تحریک جائز بلکہ ضروری ہے تو پھر وہ کیوں حضرت بائی سلسلہ احمدیہ پر پیشگوئی