تحقیقِ عارفانہ — Page 387
۳۸۷ راست تعلق تھا اس کے کئی افراد بالخصوص محمدی بیگم صاحبہ کی والدہ صاحبہ اور نانی صاحبہ کا بیعت کر لینا اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ یہ لوگ اس بات کے شاہد ناطق ہیں کہ مرزا سلطان محمد صاحب تو بہ کرنے کی وجہ سے ہی وعیدی موت سے بچے تھے۔اگر انہیں اس بات کی تصدیق نہ ہوتی تو یہ لوگ کبھی بھی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو کر اس پیشگوئی کے مصدق نہ ہوتے۔مرزا سلطان محمد صاحب کی توبہ کیلئے بیعت ضروری نہ تھی کیونکہ یہ پیشگوئی ۱۸۸۸ء میں کی گئی تھی جب کہ ابھی بیعت کا سلسلہ ہی شروع نہیں ہوا تھا۔اور نہ ابھی حضرت اقدس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔بابچہ اس وقت آپ کا دعویٰ صرف ملہم من اللہ ہونے کا تھا۔پس مرزا سلطان محمد صاحب کی وعیدی موت سے بچنے کے لئے صرف اتنا ا رجوع کافی تھا کہ وہ اس پیشگوئی کی تصدیق کرتے۔ان کا جو انٹرویو حافظ جمال احمد صاحب نے لیا تھا جو الفضل میں شائع ہو چکا ہے۔اور جس کا اقتباس پیچھے دیا جا چکا ہے۔بتاتا ہے کہ مرزا سلطان محمد صاحب حضرت اقدس پر ایمان رکھتے تھے۔اور اس پیشگوئی کے مصدق تھے۔گو وہ حضرت موسیٰ کے زمانہ کے رجل مومن کی طرح تھے جو اپنے ایمان کو چھپاتا تھا اور صرف ضرورت کے موقعہ پر اس نے اپنا ایمان ظاہر کیا تھا۔ممکن ہے وہ کسی حجاب کی وجہ سے ظاہری بیعت سے رکے رہے ہوں۔بہر حال ان کے بیعت نہ کرنے کی حقیقی وجوہ تو صرف وہ خود ہی جانتے تھے۔انٹرویو کے وقت اس کی وجہ دریافت کرنے پر انہوں نے کہا تھا کہ بیعت نہ کرنے کی وجوہ وہ مصلحت کی وجہ سے بیان نہیں کر سکتے ورنہ انہیں حضرت اقدس پر ایمان اس سے بھی بڑھ کر ہے جو کسی احمدی کو ہو سکتا ہے جس نے بیعت کی ہوئی ہو۔اور یہ بات وہ سبھی کہہ سکتے تھے جب کہ وہ اپنے میکں ایمان لانے والوں میں سے سمجھتے ہوں۔چونکہ مرزا سلطان محمد صاحب پیشگوئی کی وعیدی موت سے بچ جانے کے بعد صرف پیشگوئی کی