تحقیقِ عارفانہ — Page 386
اقدس کے نکاح میں آنا چاہیے تھا نہ کہ مطلقہ ہو کر۔اب ہم برق صاحب سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ وہ بتائیں کسی الہام کی روسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ محمد ی دیگم صاحبہ مطلقہ ہو کر حضرت اقدس کے نکاح میں آئیں گی؟ ہمارا دعوی ہے کہ وہ ایسا کوئی الہام بلکہ حضرت اقدس کا ایسا اجتماد بھی پیش نہیں کر سکتے جو محمدی بیگم صاحبہ کے مطلقہ ہو کر حضرت اقدس کے نکاح میں آنے کو ضروری قرار دیتا ہو۔بلکہ الہام الہی صاف بتاتا ہے کہ وہ اپنے خاوند کی موت کے بعد حضرت اقدس کے نکاح میں آئیں گی۔مگر ان کے خاوند کی موت ان کی توبہ اور پیشگوئی کی تصدیق کی وجہ سے مل گئی اور پھر یہ تو بہ پائیدار رہی اور باوجود حضرت اقدس کے مخالفین اور معترضین کو یہ چیلنج دینے کے کہ سلطان محمد سے تکذیب کا اشتہار دلاؤ۔جو معیاد خدا تعالیٰ مقرر کرے اگر اس سے اس کی موت تجاوز کر جائے تو میں جھوٹا ہوں۔(انجام آتھم صفحہ ۳۲) کوئی مخالف بھی تکذیب کا اشتہار دلانے پر قادر نہ ہو سکا۔الہذا حضرت اقدس سے نکاح جو محمدی بیگم صاحبہ کے وہ ہو کر واپس آنے سے مشروط ہونے کی وجہ سے (نہ کہ مطلقہ ہو کر واپس آنے سے) مرزا سلطان محمد صاحب کی موت سے معلق تھا اور مرزا سلطان محمد صاحب کے تو بہ کے ذریعے وعیدی موت سے بچ جانے کے بعد اب نکاح ضروری نہیں رہا تھا۔کیونکہ پیشگوئی کا یہ حصہ شرط توبہ کے مطابق دوسر ارنگ اختیار کر گیا تھا۔رہا ان لوگوں کے حلقہ بیعت میں شامل ہونے کا سوال سو اس کے متعلق عرض ہے کہ بے شک اس خاندان کے اکثر افراد حلقہ بیعت میں بھی شامل ہو گئے ہیں اور خود محمدی بیگم صاحبہ کے پسر مرزا اسحاق ایک صاحب بھی خدا کے فضل سے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو چکے ہیں اور اس کے علاوہ خود محمدی بیگم صاحبہ کی والدہ اور ان کی دو لڑکیاں بھی حلقہ بیعت میں داخل ہو چکی ہیں۔پس جس خاندان سے اس پیشگوئی کا براہ