تحقیقِ عارفانہ — Page 373
۳۷۳ پیشگوئی میں اجتہادی خطا پیشگوئیوں میں بعض دفعہ اجتہادی خطا بھی شرط کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مذکور نہ ہونے کی وجہ سے یا شرط کی طرف سے ذہول ہو جانے کی وجہ سے واقع ہو سکتی ہے۔اور یہ امر قابل اعتراض نہیں۔حضرت نوح سے وحی الہی کے سمجھنے میں اجتہادی غلطی ہو گئی تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّور قُلْنَا احْمِلُ فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ط (سوره هود آیت ۴۱) یعنی یہاں تک کہ جب ہمارا اعذاب کا حکم آجائے اور چشمے پھوٹ کر یہ پڑیں تو ہم کہیں گے کہ ہر ایک قسم کے جانوروں میں سے ایک جوڑا ( یعنی دو ہم جنس فردوں کو ) اور اپنے اہل و عیال کو بھی سوائے اس فرد کے جس کی ہلاکت کے متعلق اس عذاب کے آنے سے پہلے ہی ہمارا فرمان جاری ہو چکا ہے اور نیز ان کو سوار کرلے جو تجھ پر ایمان لائے ہیں۔اس سے قبل نوع کو یہ حکم دیا جا چکا تھا : - وَلَا تُخَاطِبُنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ۔( ہود آیت (۳۸) کہ مجھے ظالموں کے بارے میں خطاب نہ کرنا بے شک وہ غرق ہونے والے حضرت نوح کا بیٹا جب غرق ہونے لگا تو انہوں نے خدا تعالیٰ کو اُس کا وعدہ یاد دلایا اور کہا :- رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ - ( بود آیت ۴۶) اے میرے رب بیشک میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے اور بے شک تیرا وعدہ سچا ہے۔(یعنی اسے وعدہ کے مطابق چنا چاہیئے) یہ وعدہ یاد دلانے میں حضرت نوح کو پیشگوئی کی اس شرط سے ذہول ہو گیا جو :-