تحقیقِ عارفانہ — Page 372
۳۷۲ غرق ہو گئی۔اس قوم سے خدا تعالیٰ نے اپنی دوسری سنت تأخیر عذاب کے مطابق سلوک کیا۔پیشگوئی زیر بحث میں خدا کی سنت کا ظہور اس پیشگوئی میں مرزا احمد بیگ صاحب حضرت اقدس سے اپنی لڑکی کا نکاح نہ کرنے کی وجہ سے پیشگوئی کے میعاد میں پکڑے گئے اور ہلاک ہوئے۔اس سے کنبہ پر ہیبت طاری ہو گئی اور سلطان محمد صاحب خاوند محمدی بیگم صاحبہ کی تو بہ اور استغفار پر اُن کی وعیدی موت ٹل گئی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے :- مَا كَانَ اللهُ مُعَدِّ بَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (انفال آیت ۳۴) یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دینے والا نہیں ہے اس حال میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔سلطان محمد صاحب کی موت کی پیشگوئی توبہ کی وجہ سے ٹل جانے پر اب حضرت اقدس سے نکاح ضروری نہ رہا۔اب سلطان محمد صاحب پر عذاب صرف اسی صورت میں نازل ہو سکتا تھا کہ وہ تو بہ کو توڑ دیتے اور پیشگوئی کی تکذیب کر دیتے اور پھر ان کی موت کے لئے نئی میعاد خدا کی طرف سے مقرر ہوتی۔اس لئے انجام آتھم کے صفحہ ۳۲ پر حضرت اقدس نے نکاح کی پیشگوئی کو سلطان محمد صاحب کے آئندہ اس پیشگوئی کی تکذیب کرنے اور بے باکی اور شوخی دکھانے سے اور اس کے لئے نئی میعاد مقرر ہونے سے معلق قرار دے دیا اور ایسا ہی ہونا ضروری تھا۔کیونکہ امکان تھا کہ مرزا سلطان محمد کسی وقت تکذیب کر دیتے تو پیشگوئی میں لوگوں کے لئے اشتباہ پیدا ہو جاتا۔